Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
700 - 882
لباس پہننے کے بعد کی دعا:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے اپنے دورِ خلافت میں تین درہم کے عوض کپڑا خرید کر پہنا، اس کی آستین کا وہ حصہ جو  پہنچوں سے زائد تھا اسے کاٹ دیا اوریہ دعاپڑھی: اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ كَسَانِیْ هٰذَا مِنْ رِيَاشِهٖ یعنی تمام تعریفیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے ہیں جس نےاپنے عمدہ لباسوں میں سے مجھے یہ لباس پہنایا۔(1)
لباس کیسا ہو؟
	حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری اور دیگر بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنفرماتے ہیں:ایسا لباس پہنو جو تمہیں عُلَما کے یہاں مشہور نہ کرے اور نہ ہی اس کے سبب جاہل لوگ تمہیں حقیر جانیں۔
پسندیدہ اور ناپسندیدہ شخص:
	حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرمایا کرتے تھے:اگر نماز کے دوران کوئی فقیر میرے پاس سے گزرے تو میں اسے گزرنے دوں گا اور اگر کوئی عمدہ لباس میں ملبوس مال دار میرے پاس سے گزرے تو اسے ناپسند کرتے ہوئے نہیں گزرنے دوں گا۔
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے دونوں کپڑوں اورچپلوں کی قیمت کا اندازہ لگایا تو وہ ایک درہم اور چار دانِق کےقریب تھی۔
	حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن شُبْرُمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میرا بہترین لباس وہ ہے جو میری خدمت کرے اور میرا بدترین لباس وہ ہے جس کی میں خدمت کروں۔
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:ایسا لباس پہنو کہ تم بازار میں موجود عام لوگوں کی طرح نظر آؤ،ایسا لباس مت پہنو جو تمہیں مشہور کردے اورلوگوں کی نظریں تمہاری طرف اٹھیں۔
لباس تین قسم کے ہیں:
	حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:لباس تین طرح کے ہوتے ہیں:(۱)…جواللہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المجالسة وجواہر العلم، الجزء الثانی،۱/ ۱۴۵،حدیث:۲۶۸،دون’’ کسانی‘‘