پس جاہِل آدمی لَفْظ ”صورت“ سے یہی سمجھتا ہے کہ اس سے مراد رنگ، شکل اور بناوٹ وساخت ہے اور وہ اس جیسی چیزیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ثابت کرتاہے جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے پاک اور بلند ہے۔ اسی وجہ سے صفاتِ باری تعالیٰ کے معاملے میں بعض لوگوں کے قدم پھسل گئے یہاں تک کہ انہوں نے کلامِ باری تعالیٰ کو آواز اور حروف قرار دے دیا (یعنی حادث ٹھہرایا)۔ یوں ہی دیگر صِفات کا معاملہ ہے اور یہاں بات طویل ہے۔
یوں ہی بعض دفعہ آخرت کے حوالے سے ایسی مثالیں بیان کی جاتی ہیں کہ مُلْحِدْ وبےدِین شخص اِنہیں جھٹلا دیتا ہے کیونکہ اس کی نظر پر جمود طاری ہے کہ وہ محض مثال کے ظاہر کو دیکھتا ہے اور اپنے نزدیک مثال کے تناقض پر نظر کرتا ہے۔ جیساکہ تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی ہے:”یُؤْتٰی بِالۡمَوۡتِ یَوۡمَ الۡقِیَامَةِ فِی صُوۡرَةِ کَبۡشٍ اَمۡلَحَ فَیُذۡ بَحُ یعنی روزِ محشر موت کو ایک سیاہ وسفید مینڈھے کی صورت میں لاکر ذبح کردیا جائے گا۔“(1)
یہ روایت سن کراحمق وبیوقوف بےدین آدمی ہٹ دھرمی کرتا اور اسے جھٹلاتا ہے اور اس سے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے جھوٹا ہونے پر استدلال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”واہسُبحٰنَ اللہ! موت ایک عَرَض ہے جبکہ مینڈھا ایک جسم تو پھر عرض کسی جسم میں کیسےتبدیل ہوسکتا ہے! یہ تو ہے ہی مُحال۔“ درحقیقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس قسم کے بیوقوفوں کو اپنے اَسرار کی معرفت سے جدا کر رکھا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَا یَعْقِلُہَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾ (پ۲۰،العنکبوت:۴۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور اُنھیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔
اور اس بےچارے کو تو اتنی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ اگر کوئی آدمی کسی تعبیر بتانے والے سے کہے میں نے خواب دیکھا کہ ایک مینڈھا لایا گیا اور کسی نے کہا”یہ وہ وباء ہے جو شہر میں پھیلی ہوئی ہے“ اور پھر اسے ذبح کردیا گیا۔ تو تعبیر بتانے والا یہی کہے گا کہ تم نے سچ کہا اور مُعامَلہ بھی اسی طرح ہے جیسا تم دیکھا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ وبا ختم ہوجائے گی اور دوبارہ کبھی نہیں آئے گی کیونکہ جس کو ذبح کردیا جائے اس کی واپسی کی امید ختم ہوجاتی ہے۔ پس تعبیر بتانے والا اس کی تصدیق میں سچا ہے اور خواب دیکھنے والا اپنے خواب میں سچا ہے۔
خواب کی حقیقت:
خواب کی حقیقت یہ ہے کہ خوابوں پر مقرر فرشتہ روحوں کو بحالَتِ نیند اُن باتوں پر مطلع کرتا ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب التفسیر، باب وانذرھم یوم الحسرة ،۳/ ۲۷۱،حدیث : ۴۷۳۰،بتغیرقلیل۔