Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
699 - 882
سنّت کی اہمیت:
	مذکورہ گفتگولباس کے معاملے میں سیرتِ مصطفٰے سے متعلق تھی اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمَّت کو اپنی اِتِّباع  کی وصیت فرمائی ہے۔چنانچہ ارشاد فرمایا:مَنْ اَحَبَّنِىْ فَلْيَسْتَنَّ بِسُنَّتِىْیعنی جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ میری  سنّت کو اختیار کرے۔(1)
	ایک روایت میں ہے:عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِىْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَآءِ الرَّاشِدِيْنَ مِنْ بَعْدِىْ عَضُّوْاعَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِیعنی میری سنت کو اور میرے بعد خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرواور اسے مضبوطی سے تھامے رکھو۔(2)
	جبکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکا فرمانِ عالی شان ہے:
قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ  (پ۳،اٰل عمرٰن:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کودوست رکھتے ہو تومیرے فرمانبردارہوجاؤ اللہتمہیں دوست رکھے گا۔
سیِّدہ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَاکو وصیت: 
	رحمَتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدِّیقہ طَیِّبَہ طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو خاص طور پر وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اِنْ اَرَدْتِّ اللُّحُوْقَ بِىْ فَاِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْاَغْنِيَـآءِ وَ لَا تَنْزَعِیْ  ثَوْبًـا حَتّٰى تُرَ قِّعِيْهِیعنی اگر تم جنت میں میرا قرب پانا چاہتی  ہو تو امیروں کی صحبت سے بچنا اور کسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھنا جب تک اسے پیوند نہ لگالو۔(3)
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی مبارک قمیص پر بارہ پیوند شمار کئے گئے جن میں سے بعض چمڑے کے تھے۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المصنف لعبد الرزاق، کتاب النکاح، باب وجوب النکاح وفضلہ،۶/ ۱۳۵،حدیث:۱۰۴۱۸،بتغیرقلیل
2…سنن ابی داود، کتاب السنة، باب لزوم السنة،۴/ ۲۶۷،حدیث:۴۶۰۷
3…سنن الترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی ترقیع الثوب،۳/ ۳۰۲،حدیث:۱۷۸۷
4…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۵۶ عمر بن الخطاب،۳/ ۲۵۰