Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
698 - 882
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے اَنماری اُون سے ایک جبہ تیار کیا گیا جس کے کنارے سیاہ رنگ کے تھے۔جب آپ نے اسے زیبِ تن کیا تو ارشادفرمایا:دیکھو !یہ کس قدر خوبصورت اورنرم ہے!(1)ایک اَعرابی نے کھڑے ہوکر عرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ مجھے عطا فرمادیجئے۔آپ سے جب بھی  کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ بخل نہ فرماتے۔چنانچہ آپ نے وہ جبہ اس اعرابی کو عنایت فرمادیا اور اپنے لئے ایک اور جبہ تیار کرنے کا حکم فرمایا ،ابھی وہ جبہ تیاری کے مراحل میں تھا کہ آپ رفیْقِ اعلیٰ کے پاس تشریف لے گئے۔
خداچاہتا ہے رضائے محمد:
	حضرت سیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبیّ اَکرم،نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی لخْتِ جگر خاتونِ جنت حضرت سیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس تشریف لائے تو مُلاحَظہ فرمایا کہ خاتونِ جنت اونٹ کے بالوں کی بنی چادر اوڑھے  چکی چلارہی ہیں۔یہ منظر دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چشمانِ کرم سے آنسوجاری ہوگئےاورارشادفرمایا:اے بیٹی!جنت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو پانے کے لئے دنیا کی تکالیف پر صبر کرو۔اس موقع پر یہ آیتِ مقدسہ نازل ہوئی:
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾ (پ۳۰،الضحٰی:۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنادے گا کہ تم راضی ہوجاؤگے۔(2)
اُمَّت کے بہترین افراد:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے مَحبوب،دانائے غُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:ملائے  اعلیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت کے بہترین افراد وہ ہیں جوجلوت میں رحمَتِ الٰہی کی وسعت پرخوش ہوتے اور خلوت میں اس کے عذاب کے خوف سے روتے ہیں۔ان کا بوجھ لوگوں پر ہلکا اور اپنے اوپر بھاری ہےیہ لوگ پرانے کپڑے پہنتے اور راہبوں کا طریقہ اپناتے ہیں۔ان کے اَجسام زمین پر جبکہ دل عرش کے قریب ہوتے ہیں۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اخلاق النبی واٰدابہ، باب ذکر صوفہ،ص۷۱،حدیث:۳۰۹،بتغیر،عن سھل بن سعد رضی اللہ عنہ
2…الدرالمنثور، الضحی، تحت الاٰیة:۵،۸/ ۵۴۳
3…حلیة الاولیاء، مقدمة المصنف،۱/ ۴۸،حدیث:۲۸،’’رھبان‘‘بدلہ’’برھان‘‘