Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
694 - 882
 کے پتوں کا پیوند لگایا حالانکہ پتے بہت جلد سوکھ کر ٹوٹ جاتے ہیں۔(۲)…اَوسط دَرَجہ ایسالباس جو ایک ماہ کے لگ بھگ جسم پر ٹھہر سکے۔(۳)…اعلیٰ درجہ ایسا لباس جو ایک سال تک ستر پوشی کرسکے۔
	ایسےلباس کی طلب کرنا جو ایک سال سے زائد مدت تک باقی رہے لمبی امیدوں تک لے جاتا ہے اورلمبی امیدیں زہد کےمُنافِی ہیں لیکن اگر ایسے لباس کے استعمال سے مقصود اس کا کھردرا پن اور سختی ہو اور ضمنی طور پر ایک سال سے زیادہ باقی رہنا حاصل ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔جس شخص کے پاس مذکورہ لباس  سے زائد کپڑا موجود ہو تو اسے صدقہ کردینا چاہئے ،اگر اسے روکے رکھے گا تو زاہد نہیں بلکہ دنیا سے محبت کرنے والا ہوگا۔
بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکا لباس میں زہد
	اس معاملے میں انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماور صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے احوال پر غور کرنا چاہئے کہ ان حضرات نے کس طرح عمدہ لباس کو ترک کردیا تھا۔
بوقْتِ وصال لباسِ مصطفٰے:
	حضرت سیِّدُناابوبردہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کابیان ہے:اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے ہمارے سامنے ایک پیونددار کمبل اور ایک موٹاتہہ بندنکالا اورفرمایا:میرے سرتاج، صاحِبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےان  دو کپڑوں میں وصال فرمایا۔(1)
	سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالی شان ہے:اِنَّ اللہ يُحِبُّ الْمُبْتَذِلَ الَّذِىْ لَا يُبَالِیْ مَا لَبِسَیعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس بندے سے محبت فرماتا ہے جسے اس بات کی پروا نہ ہو کہ اس نے کیا پہنا ہے۔(2)
سیرتِ مصطفٰے کی جھلک:
	حضر ت سیِّدُناعَمْروبن اسودعَنْسِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرمایا کرتے تھےکہ میں کبھی لباسِ شہرت نہیں پہنوں گا،رات میں کبھی بچھونے پر نہیں سوؤں گا ،کبھی کسی عمدہ سواری پر سوار نہیں ہوں گا اور نہ ہی کبھی پیٹ  بھر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری،کتاب اللباس، باب الاکسیة والخمائص،۴/ ۵۵، حدیث:۵۸۱۸
2…شعب الایمان للبیھقی، باب فی الملابس…الخ،۵/ ۱۵۶، حدیث:۶۱۷۶