سچے زاہد کی صفات:
حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:سچے زاہد کی غذاوہ ہے جو مل جائے، لباس وہ جو سَتْر پوشی کردےاور مکان وہ ہے جہاں اسے رات ہوجائے۔دنیا اس کے لئے قید خانہ،قبر اس کا بچھونا،تنہائی اس کی مجلس،حصولِ عبرت اس کی فکر،قرآن اس کی گفتگو،اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کا انیس،ذکر اس کا رفیق،زہد اس کا ساتھی،غم اس کا حال،حیااس کی نشانی،بھوک اس کا سالن،حکمت اس کا کلام،مٹی اس کا فرش،تقوٰی اس کا زادِ راہ،خاموشی اس کامال،صبر اس کا تکیہ،توکُّل اس کا نسب،عقل اس کی دلیل ،عبادت اس کا پیشہ اور جنت اس کی منزل ہوگی۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔
دوسری ضرورت لباس
مقدار کے اعتبار سے لباس میں زہد کے تین درجات:
(۱)…کم سے کم درجہ ایسا لباس جو سردی گرمی سے بچائے اور ستر پوشی کرے مثلاً:ایک چادر جو جسم پر لپیٹ لی جائے۔(۲)…اوسط درجہ قمیص ،ٹوپی اور جوتوں کا جوڑا۔(۳)…اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ان تینوں چیزوں کے ساتھ سر پر لپیٹنے کے لئے رومال اور پاجامہ بھی ہو۔اس سے زیادہ مقدار زہد کی حدود سے خارج ہے۔
زاہدکے لئے یہ شرط ہے کہ اس کے پاس دوسرا جوڑا نہ ہو اور جب وہ اپنا لباس دھوئے تو اس کے سوکھنے تک اسے اپنے گھر میں رہنا پڑے ،اگرکسی کے پاس قمیص،پاجامہ اور سر کا رومال دو دو عدد ہوں تو ایسا شخص مقدار کے اعتبار سے زہد کے تمام درجات سے خارج ہے۔
جنس کے اعتبار سے لباس میں زہد کے تین درجات:
(۱)…کم سے کم درجہ بالوں کا بنا ہوا کھردرا کمبل۔(۲)…اوسط درجہ اون کا کھردرا لباس۔(۳)… اعلیٰ درجہ روئی کا موٹا لباس۔
وقت کے اعتبار سے لباس میں زہد کے تین درجات:
(۱)…ادنیٰ درجہ ایسا لباس جو ایک دن تک باقی رہے جیسا کہ بعض بزرگوں نے اپنے لباس میں درخت