کھاناتناوُل فرماتےاوراپنی انگلیاں چاٹ لیتےاور ارشاد فرماتے:اِنَّمَا اَنَاعَبْدٌ اٰكُلُ كَمَا تَاْكُلُ الْعَبِيْدُ وَاَجْلِسُ كَمَا تَجْلِسُ الْعَبِيْدُیعنی میں تو ایک بندہ ہوں ،بندوں کی طرح کھاتا اور بندوں کی طرح بیٹھتا ہوں۔(1)
حضرت سیِّدُنا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامارشاد فرماتے ہیں:میں تم سے حق بات کہتا ہوں کہ جو شخص جنَّتُ الْفِرْدَوْس کا طَلَب گار ہو اس کے لئے جَو کی روٹی کھانااور کوڑے کَرکَٹ کے ڈھیر پر کتوں کے ساتھ سونا بھی بہت ہے۔(2)
حضرت سیِّدُنا فضیل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مدینَۂ منورہ تشریف لانے کے بعد کبھی تین دن تک گندم کی روٹی شکم سیر ہوکر تناوُل نہیں فرمائی۔(3)
حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفرمایا کرتے تھے:اے بنی اسرائیل!خالص پانی،جنگل کی سبزی اور جو کی روٹی کو اختیار کرلو اور گندم کی روٹی سے بچو کیونکہ تم اس کا شکرادا نہیں کرسکتے۔(4)
کھانے کے معاملے میں انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماورسَلَف صالحینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی سیرت ہم نے مہلکات کے بیان میں ذکر کردی ہے،یہاں ہم اس کا اِعادہ نہیں کریں گے۔
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب قباء تشریف لائے تولوگوں نے شہد ملا دودھ پیْشِ خدمت کیا۔آپ نےپیالہ رکھ دیا اور ارشاد فرمایا:میں اسے حرام تو نہیں کہتا لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضُع کرتے ہوئے ترک کرتا ہوں۔(5)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں سخت گرمی کے دن شہد ملا ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا۔آپ نے فرمایا:اس کے حساب کو مجھ سے دور کردو۔(6)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد لابن المبارک، باب فضل ذکر اللہ،ص۳۵۳، حدیث:۹۹۵
مسندابی یعلی الموصلی،مسندعائشة،۴/ ۲۷۹،حدیث:۴۸۹۹
2…المجالسة وجواہر العلم، الجزء الرابع،۱/ ۲۴۸، الرقم:۵۷۷
3…بخاری،کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی…الخ،۴/ ۲۳۵، حدیث:۶۴۵۴
4…موطا امام مالک،کتاب صفة النبی،باب جامع ما جاء فی الطعام والشراب،۲/ ۴۲۲،حدیث:۱۷۷۹
5…نوادر الاصول للحکیم الترمذی،الاصل الثانی والتسعون والمائتان،۲/ ۱۲۷۷، حدیث:۱۵۶۶
6…الزھد للامام احمد بن حنبل،زھد عمر بن الخطاب،ص۱۴۷،حدیث:۶۲۸