کھانے کے وقت کے اعتبار سے زہد کے تین درجے:
(۱)…کم سے کم درجہ یہ ہے کہ دن رات میں ایک بار کھائے یعنی روزہ دار ہو اور افطار کرے۔(۲)… اوسط درجہ یہ ہے کہ روزہ رکھے اور اِفطار میں پانی پیے کھانا نہ کھائے ،پھر اگلے دن روزہ رکھے اور افطار میں کھانا کھائے پانی نہ پیے۔(۳)…اعلی ترین درجہ یہ ہے کہ مسلسل تین دن،سات دن یا اس سے بھی زیادہ روزے رکھنےپر قادر ہو۔
ہم نے مُہْلِکات کے بیان میں اس بات کو ذکر کردیا ہے کہ کھانے کی مقدار کو کیسے کم کیا جائے اور اس کی حرص کا خاتمہ کیسے کیا جائے ،یہاں ہم ان باتوں کو دوبارہ ذکر نہیں کریں گے۔
بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا کھانے میں زہد
ہمیں پیارے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرتِ طَیِّبَہ پر غور کرنا چاہئے کہ ان نُفُوسِ قُدسیہ نے کس طرح کھانے پینے کے معاملے میں زہد اختیار فرمایا اور سالن کو ترک کردیا۔ چنانچہ
دوسیاہ چیزیں:
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:ہم پر40 راتیں اس طرح گزرجاتی تھیں کہ رحمَتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاشانَۂ اَقدس میں نہ تو چولہا جلتا اور نہ ہی چراغ روشن ہوتا تھا۔عرض کی گئی:پھر آپ حضرات کیا کھاکر گزر کرتے تھے؟فرمایا:دو سیاہ چیزیں یعنی کھجور اور پانی۔(1)
اس روایت میں گوشت،شوربے اور سالن کو ترک کرنے کا ثبوت ہے۔
سردارِ دوجہاںصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی عاجزی:
حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضورسیِّدِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدراز گوش(مبارک گدھے) پر سواری فرماتے،اُونی لباس زیْبِ تن فرماتے،پیوند لگی ہوئی نَعْلَیْن پہنتے ،زمین پر بیٹھ کر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند ابی داود الطیالسی،،الجزء السادس،ص۲۰۷، حدیث:۱۴۷۲
بخاری،کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی…الخ،۴/ ۲۳۶، حدیث:۶۴۵۹،بتغیرقلیل