Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
690 - 882
اسے زاہد کہنا ممکن نہیں کیونکہ جس شخص کو ایک سال سے زیادہ زندہ رہنے کی امید ہو وہ بہت طویل امیدوں والا ہے اور  اسے زہد کی دولت حاصل نہیں،البتہ اگر کسی شخص کے پاس روزی کا کوئی ذریعہ نہ ہو اوروہ لوگوں سے لے کر کھانے پر راضی نہ ہو تو پھر ایک سال سے زیادہ کے لئے جمع کرنے میں حرج نہیں،جیسے حضرت سیدنا داؤدطائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہ آپ کو وراثت میں 20 دینار ملے تو آپ نے انہیں جمع کرلیا اور20 سال میں خرچ کیا۔ایسا کرنا زہد کی حقیقت کے منافی نہیں ہے البتہ جو حضرات توکُّل کو زہد کی شرط ٹھہراتے ہیں ان کے نزدیک یہ عمل زہد کی حقیقت کے منافی ہے۔
زاہد ایک دن میں کتنا کھائے؟
	غذا کے معاملے میں عرض کا تعلُّق مقدار سے ہے۔مقدار کے بھی تین درجے ہیں:(۱)…کم سے کم درجہ یہ ہے کہ دن رات میں آدھے رطل(یعنی کم وبیش ڈیڑھ پاؤ)پرقناعت کرے۔(۲)…اوسط درجہ دن رات میں ایک رِطل۔ (۳)…اعلیٰ درجہ دن رات میں ایک مد ہے۔
	تیسرا درجہ وہ مقدار ہے جواللہ عَزَّ  وَجَلَّنے کفّارے کے طور پر مَساکین کو کھلانے کے لئے مقرر فرمائی ہے،اس سے زیادہ مقدار بِسیار خوری اور کھانے پینے میں مشغول ہونا ہے۔جو شخص ایک مد کی مقدار پر بھی گزارہ نہ کرسکے تو پیٹ کے زہد میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
غذا کی جنس کے تین درجات:
	(۱)…کم سے کم درجہ ہر وہ چیزجو غذا بن سکے اگرچہ بھوسے کی روٹی ہو۔(۲)…جو اورباجرے کی روٹی۔ (۳)…گندم کےاَن چھنے آٹے کی روٹی،چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھاناعیش پسندی میں  داخل ہے اور ایسا شخص زہد کے ابتدائی تو کیا سب سے آخری درجے سے بھی خارج ہے۔   
سالن کے تین درجات:
	(۱)…کم سے کم درجہ نمک،سبزی یا سِرکہ۔(۲)…اوسط درجہ زیتون یا تھوڑی مقدار میں کوئی سابھی تیل۔ (۳)…اعلیٰ درجہ ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ کوئی سا بھی گوشت،اگر روزانہ یا ہفتے میں دو سے زائد مرتبہ گوشت کھانے کا سلسلہ ہو تو ایسا شخص زہد کے سب سے آخری درجے سے بھی محروم ہے اور پیٹ کے زہد میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔