Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
69 - 882
انبیائے کرام کی گفتگو علم والے ہی سمجھتے ہیں:
	اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام لوگوں سے مثالوں کے طریقے پر ہی گفتگو کرتے ہیں کیونکہ یہ نُفُوْسِ قُدْسِیَہ اس بات کے پابند ہیں کہ لوگوں سے ان کی عَقْل کے مطابق بات کریں اورلوگوں کی عقل ایسی ہے کہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور سونے والے کے لئے جو بھی شے مُنکَشِف ہوتی ہے وہ مثال کی صورت ہی میں ہوتی ہے، لہٰذا جب فوت ہوں گے تو جاگ جائیں گے پھر انہیں پتا چلے گا کہ وہ مثالی صورت سچی تھی۔چنانچہ
	حضورنبیّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:قَلْبُ الْمُؤْمِنِ بَیْنَ اُصْبُعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰن یعنی بندۂ مومن کا دل رحمن عَزَّ  وَجَلَّ کی دو انگلیوں کے درمیان (یعنی قبضہ میں) ہے۔(1)
	یہ ایسی مثال ہے جسے صِرف اَہْلِ علم جانتے ہیں جبکہ جاہل کی سوچ اس مثال کے ظاہر سے آگے نہیں بڑھتی کیونکہ وہ ازروئے تاویل کی جانے والی وضاحت سے لاعِلْم ہے جیساکہ خواب میں دیکھی جانے والی مثالوں کی وضاحت کو تعبیر کہتے ہیں۔ پس جاہل آدمی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہاتھ اور انگلی ثابت کرے گا۔ تَعَالَی اللہ عَنْ قَوْلِہٖ عُلُوًّا کَبِیْرًا یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی اس بات سے بہت بلند ہے۔
	ایسے ہی شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِگرامی ہے:اِنَّ اللہ خَلَقَ اٰدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ یعنی بےشک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا(2)۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم، کتاب القدر، باب تصریف اللہ تعالٰی القلوب کیف شاء،ص۱۴۲۷،حدیث : ۲۶۵۴، بتغیر قلیل۔
2…اس جملہ کی چار شرحیں ہیں صورت بمعنی ہیئت وشکل ہے یا بمعنی صفت اور ضمیر کا مرجع یا آدم عَلَیْہِ السَّلَام ہیں یا اللہ تعالیٰ، لہٰذا اس جملے کے چار معنیٰ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آدم عَلَیْہِ السَّلَامکو ان کی شکل وہیئت پر پیدا فرمایا کہ جس شکل میں انہیں رہنا تھا، انہیں اوّل ہی سے وہ شکل دی دوسروں کی طرح نہ کیا کہ پہلے بچہ پھر جوان پھر بڈھا وغیرہ یا اللہ(عَزَّ  وَجَلَّ) نے حضرت آدم کو ان کی صفت پر پیدا کیا کہ وہ اوّل ہی سے عالِم، عاقِل، عامِل، عارِف، سمیع وبصیر وغیرہ تھے دوسروں کی طرح نہیں کہ وہ جاہِل پیدا ہوتے ہیں پھر بعد میں ہوش، عِلم، عقل وغیرہ حاصل کرتے ہیں۔ یا اللہ نے حضرت آدم کو اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا، خودفرماتا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾ (پ۳۰، التین:۴، ترجمۂ کنزالایمان: بےشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔) اس لئے کوئی شخص دوزخ میں شکْلِ اِنسانی سے نہ جاوے گا کہ یہ شکل خدا کو پیاری ہے۔ یا اللہ نے حضرت آدم (عَلَیْہِ السَّلَام) کو اپنی صفات پر پیدا فرمایا کہ انہیں اپنا علم، اپنا تصرف، اپنی سمع، اپنی بصر، اپنی قدرت وغیرہ بخشی۔(مراٰۃ المناجیح،۶/ ۳۱۲)
3…مسلم، کتاب البر والصلة، باب النھی عن ضرب الوجہ ،ص۱۴۰۸،حدیث:۱۱۵(۲۶۱۲)۔