Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
688 - 882
 (بول وبراز)کے ذریعے بھی انسان کو راحت ملتی ہے لیکن چونکہ اس کا مقصد اس راحت کا حصول نہیں ہوتا اس لئے اس کا دل اس طرف متوجہ نہیں ہوتا۔بعض اوقات رات کے قیام کے دوران نسیْمِ سحر(یعنی صبح کی ٹھنڈی ہواؤں)اور پرندوں کی چہچہاہٹ کے ذریعے بھی انسان کو راحت ملتی ہے لیکن چونکہ اس کا مقصود اس راحت کا حصول نہیں ہوتا،لہٰذا یہ راحت اس کے زہد کے لئے نقصان دہ نہیں۔بعض ایسے خوفِ خدا رکھنے والے زاہدین بھی گزرے ہیں جو رات میں عبادت  کے لئےایسی جگہ تلاش کرتے تھے جہاں انہیں سَحَر کی ٹھنڈی ہوائیں نہ پہنچیں۔انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ ان ہواؤں سے راحت حاصل ہوگی اور دل ا ن سے مانوس ہوگا جس کے سبب دل دنیا کی طرف مائل ہوگا اور اس کی مقدار برابراللہ عَزَّ  وَجَلَّسے انس میں کمی آجائے گی۔
سیِّدُنا داؤدطائی عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کا زہد:
	 حضرت سیِّدُنا داؤد طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے گھر میں پانی رکھنے کے لئے ایک ٹوٹا ہوا گھڑا تھا جو دھوپ میں رکھا ہوا تھا۔آپ اسے چھاؤں میں نہ رکھتے،گرم پانی پیتے تھے اورفرماتے تھے:جو شخص ٹھنڈے پانی کی لذت کا عادی ہوجائے اس کے لئے دنیا کو چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔
	یہ ان حضرات کا خوف ہے جو دین کے معاملے میں انتہائی محتاط تھے اور ان معاملات میں احتیاط ہی بہتر ہے کیونکہ اگرچہ یہ احتیاطیں نفس پر گراں ہیں لیکن ان کی مدت قلیل ہے۔ہمیشہ کی نعمتوں کو پانے کے لئےتھوڑی مدت تک مشقت برداشت کرنا ان لوگوں پر گراں نہیں گزرتا جو اہْلِ معرفت ہیں،حکمَتِ عملی کے ساتھ اپنے نفس کو دبا کررکھتے ہیں،دنیا اور آخرت کے فرق کی معرفت کے لئے یقین کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں۔رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّان سب سے راضی ہو۔
ضروریاتِ زندگی میں زہد کی تفصیل
	لوگ جن چیزوں میں مشغول  ہیں ان کی دو اقسام ہیں:(۱)فضول (۲) ضروری۔
٭…فضول:جیسے سواری کے عمدہ گھوڑے،اکثر لوگ انہیں اس لئے رکھتے ہیں تاکہ ان کی سواری سے مزہ حاصل کریں حالانکہ وہ پیدل سفر پر بھی قادر ہوتے ہیں ۔
٭…ضروری: جیسے کھانا پینا وغیرہ۔