Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
687 - 882
 کردینا زہد ہے تو پھر اس حالت کے ہوتے ہوئے کھانا،پینا،لباس پہننا،لوگوں سے ملنا جلنا اور بات چیت کرنا کیسے ممکن ہے جبکہ یہ سب کچھ غیرُاللہ میں مَشْغُولِیَّت ہے؟
	جواب:یہ بات ذہن نشین کرلو کہ دنیا سے منہ موڑ کراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی طرف متوجہ ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ بندہ ہَمَہ تناللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوجائے ،ایسا صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ انسان زندہ رہے اور زندہ رہنے کے لئے جسمانی ضَرُوْرِیّات کی تکمیل لازمی ہے،لہٰذا جو شخص دنیا سے صرف اتنی مقدار پر قناعت کرے جس کے ذریعے اپنے جسم کو ہلاکت سے بچاسکے اور اس کی نیت اپنے بدن سے عبادت پر مدد لینے کی ہو تو ایسا شخص ہرگزغیرُاللہ میں مشغول ہونے والا نہیں،جو چیز کسی مقصد تک پہنچے کا ذریعہ ہو وہ چیز بھی اس مقصد میں شامل ہوتی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ سَفَرِ حج کےدوران کوئی شخص اپنی سواری کی اونٹنی کو چارہ کھلانے اور پانی پلانے میں مشغول ہو تو اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اپنے سفر کو چھوڑ کر اس کام میں لگ گیا ہے،لیکن یہ بات پیشِ نظر رہے کہ راہِ خدا میں تمہارا بدن ایسے ہی ہو جیسے حج کے راستے میں تمہاری اونٹنی،جس طرح تمہیں اونٹنی کی خواہشات کو پورا کرنے سے کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ تمہارا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اسے ہلاکت سے بچایا جائے تاکہ یہ مجھے میری منزل تک پہنچادے،اسی طرح تمہیں چاہئے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے راستے میں اپنے بدن کے ساتھ تمہارا معاملہ یہ ہوکہ کھانے پینے کے ذریعے اسے ہلاکت خیز بھوک پیاس سے بچایا جائے،لباس اور مکان کو استعمال کرکے سردی گرمی  کی آفات سے محفوظ  رہا جائےاور ان معاملات میں صرف بقدرِ ضرورت مقدار پر گزارہ کیا جائے نیز ان چیزوں کو استعمال کرنے میں حصولِ لذت کی نہیں بلکہ عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت ہو۔اس انداز میں دنیا کا استعمال زہد کے مُنافِی نہیں بلکہ یہ تو زہد کے لئے شرط ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	جب کوئی بھوک کے وقت کھانا کھائے گا تو اسے لذت تو حاصل ہوگی(کیا یہ زہد کے منافی ہے؟)۔
	جواب:اگر حصولِ لذت کی نیت نہ ہو تو پھر لذت کا حاصل ہونا زہد کے لئے نقصان دہ نہیں،ٹھنڈا پانی پینے والے کو لذت بھی حاصل ہوتی ہے اور پیاس دورکرنے کا مقصدبھی پورا ہوجاتا ہے،یونہی قضائے حاجت