کردیا تھا پھر اب کیا ہوا؟ دریافت فرمایا:تم نے کون سی نئی بات دیکھی ہے؟اس نے کہا:آپ کا پتھر کو تکیہ بنانا یعنی آپ اس پتھر کے ذریعے اپنے سر کو زمین سے اونچا کرکے دنیا کو استعمال کررہے ہیں۔یہ سن کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے وہ پتھر پھینک دیا اور فرمایا:میں نے اس پتھر کو بھی ترک کردیا۔
حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن زکریاعَلَیْہِمَاالسَّلَامکے بارے میں منقول ہے کہ آپ نرم لباس کو ترک فرماکر ٹاٹ کا لباس پہنا کرتے تھے یہاں تک کہ جسْمِ مُبارَک میں نشانات پڑگئے۔آپ کی والِدہ ماجِدہ نے فرمایا کہ ٹاٹ کی جگہ اُونی جُبّہ پہن لیں توآپعَلَیْہِ السَّلَامنے پہن لیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کی طرف وحی فرمائی:اے یحییٰ!تم نے دنیا کو مجھ پر ترجیح دے دی؟اس پرآپ رونے لگے،اونی جبہ اتارا اور پھر سے ٹاٹ کا لباس زیْبِ تن فرمالیا۔
حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل فرماتے ہیں:زہد توحضرت سیِّدُنااویس قرنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کا تھا کہ لباس نہ ہونے کے سبب آپ کھجوروں کے بڑے تھیلے میں بیٹھے رہتے تھے۔
میں یہ نعمت بھی استعمال نہ کروں:
حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامایک شخص کی دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ اس نے آپ کو اٹھادیا۔آپ نے ارشاد فرمایا:مجھے تم نے نہیں بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اٹھایا ہے جس نے میرے لئے اس بات کو پسند نہیں فرمایا کہ میں دیوار کے سائے کی نعمت کو استعمال کروں۔
زہد کا کم سے کم درجہ:
بہرحال ظاہری اور باطِنی دونوں اِعتبارات سے زہد کے درجات کی کوئی حد نہیں۔زہد کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ ہر ممنوعہ اور مُشْتَبَہ چیز سے بے رغبتی اختیار کی جائے۔
بعض بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں:”زہد صرف حلال میں ہے،حرام اور مشتبہ چیزوں میں نہ تو زہد ہے اور نہ ہی ان سے بے رغبتی اختیار کرنا زہد کا کوئی درجہ ہے۔“پھران کے خیال میں اب دنیوی اموال میں حلال باقی نہیں رہا،لہٰذااب زہد بھی نہیں ہوسکتا ۔
زہد کا حقیقی مفہوم:
سوال:اگر زہد کی تعریف کے حوالے سے یہ قول درست ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ ہر چیز کو ترک