Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
685 - 882
	اس قول میں آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اِن تمام باتوں کو زہد کے مخالف قرار دیا ہے۔ 
	ایک مرتبہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ آیتِ طیبہ تلاوت فرمائی:
اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ۸۹﴾ (پ۱۹،الشعرآء:۸۹)
ترجمۂ کنز الایمان:مگر وہ جواللہکے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔ 
	اور فرمایا:قلْبِ سلیم وہ ہےجس میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے سوا کوئی نہ ہو۔
	ایک موقع پرفرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نیک بندوں نے زہد کو اس لئے اختیار کیا تاکہ ان کے دل دنیوی تفکرات سے خالی ہوکر آخرت میں مشغول ہوسکیں۔
	زہدکےلئےجس چیز کو ترک کیا جائے اس کی اقسام کے اعتبار سے زہد کی اقسام کا بیان یہاں پر ختم ہوا۔
اَحکام کے اعتبار سے زہد کی اقسام
	حضرت سیِّدُناابراہیم بن اَدْہَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں:احکام کے اعتبار سے زہد کی تین اقسام ہیں: (۱)فرض(۲) نفل(۳)احتیاط۔
	فرض زہد حرام چیزوں میں ،نفل حلال چیزوں میں جبکہ احتیاط شبہات میں ہے۔
	ہم نے تقوٰی کے مختلف دَرَجات کی تفصیل’’حلال وحرام‘‘کے  بیان میں ذکر کی ہے،وہی دَرَجات زہد میں بھی ہیں کیونکہ حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے جب عرض کی گئی کہ زہد کیا ہے؟تو آپ نے فرمایا:تقوٰی۔
	وہ پوشیدہ معاملات جنہیں بندہ ترک کردیتا ہے اگر ان کے اعتبار سے دیکھا جائے تو زہد کی کوئی انتہا نہیں کیونکہ نفس جن خیالوں اورساعتوں سے لطف اندوزہوتا رہتا ہے ان کی کوئی انتہا نہیں ہے بالخصوص خفیہ ریا کیونکہ اس پر صرف باریک بین عُلَما ہی مُطَّلَع ہوسکتے ہیں بلکہ ظاہری امور میں بھی زہد کے بے شمار دَرَجات ہیں۔
اعلیٰ درجے کا زہد:
	سب سے اعلیٰ درجے کا زہد حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاہے۔چنانچہ مروی ہے کہ آپعَلَیْہِ السَّلَام ایک پتھر کو تکیہ بنائے آرام فرمارہے تھے کہ شیطان نے کہا:آپ نے تو دنیا کو ترک