ترک کرنا ہے۔
٭…حضرت سیِّدُنایوسُف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جوشخص تکلیفوں پر صبر کرے،شہوات کو ترک کردے اور حلال غذا کھائے تو بے شک اس نےحقیقی زہد کو اختیار کرلیا۔
ہم نے جو اقوال نقل کئے ہیں ان کے علاوہ بھی زہد کے بارے میں متعدَّد اَقوال ہیں لیکن مزید اقوال ذکر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جو شخص اقوال کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرے اور ان اقوال کو مختلف دیکھے تو وہ صرف حیران ہوتا ہے۔جس شخص کے لئے حق ظاہر ہوجائے اور وہ سن کر نہیں بلکہ اپنے دل کے ذریعے مُشاہَدہ کرکے اسے پالےاسے حق کا یقین ہوجاتا ہے اور وہ اس شخص کی کوتاہی پر بھی مُطَّلَع ہوجاتا ہے جو اپنی بصیرت کی کمزوری کے سبب زہد کی حقیقت جاننے سے محروم رہا اور اس شخص کےاِختصار کو بھی جان لیتا ہے جس نے حصولِ معرفت کے باوجود کسی ضرورت کے سبب زہد کے بارے میں مختصر کلام کیا۔ مذکورہ تمام بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین نے زہد کی تفصیلی معرفت کے باوجود اختصار سے کام لیا ہےلیکن انہوں نے جس قدر ذکر کیا اسے ضرورت کے وقت بقدرِ ضرورت ذکر کیا ہے اور مختلف لوگوں کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، لہٰذا لا مُحالہ ان کی بیان کردہ تعریفات بھی مختلف ہیں۔
بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے کلام میں اختصار کا ایک سبب یہ بھی ہےکہ وہ صرف اس حالت کو بیان کرنا چاہتے ہیں جو فی الحال بندے کو درپیش ہوتی ہے اور حالتیں بدلتی رہتی ہیں، لہٰذا اس کے بارے میں اقوال بھی مختلف ہیں جبکہ فی نفسہٖ حق ایک ہی ہوتا ہے اس کا مختلف ہونا ممکن نہیں۔
زہد کی جامع تعریف:
٭…زہد کی جامع اور مکمل تعریف حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکاقول ہے اگر چہ اس میں تفصیل نہیں ہے۔چنانچہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:زہد کے متعلق ہم نے بہت کچھ سنا ہے ،ہمارے نزدیک زہد یہ ہے کہ بندہ ہر اس چیز کو ترک کردے جو اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دور کرے۔
ایک موقع پر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی بات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:جس شخص نے شادی کی،مال کی تلاش میں سفر کیا یا حدیث لکھی تو وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا۔