Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
683 - 882
 اسےلمبے عرصے تک زندہ رہنے کی امید دلاتا ہے اور اس کی امیدیں طویل ہوجاتی ہیں،لہٰذا جس شخص نے اپنی امیدوں کو مختصر کرلیا گویا اس نے تمام شہوات سے منہ پھیر لیا۔
٭…حضرت سیِّدُنا اُویس قَرنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:زاہد جب رزق کی تلاش میں نکلتا ہے تواس سے زہد رخصت ہوجاتا ہے۔
	اس قول میں زہد کی تعریف نہیں کی گئی  بلکہ اس بات کو بیان کیا گیا  ہے کہ زہد کے لئے توکُّل شرط ہے۔
٭…حضرت سیِّدُنااویس قرنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے ایک موقع پر فرمایا:زہد یہ ہے کہ بندہ اس چیز کی طلب کو ترک کردے جس کا ذمہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے لیا ہے یعنی رزق۔
٭…ایک مُحَدِّث بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اپنی رائے اور عقل کے مطابق عمل کرنا دنیا ہے جبکہ علم اور سنت کی پیروی کرنا زہد ہے۔
	اگر اس قول میں رائے سے مراد غَلَط رائے اور عقل سے وہ عقل مراد لی جائے جس کے ذریعے دنیا میں عزت طلب کی جاتی ہے تو یہ بات بالکل درست  ہے لیکن اس میں طَلَبِ شہرت کے بعض خاص اسباب اور بعض فضول شہوات کی طرف اشارہ ہے کیونکہ بعض  علوم    بھی ایسے ہیں جن کا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں اور ان کو اتنا لمبا کردیا گیا ہے کہ ایک ایک علم کو سیکھنے میں ہی انسان کی پوری زندگی ختم ہوجائے،لہٰذا زاہد کے لئے شرط ہے کہ وہ سب سے پہلے فُضُولِیّات کو ترک کرے۔ 
٭…حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:زاہد وہ شخص ہے جو کسی کو دیکھے تو کہے کہ یہ مجھ سے افضل ہے۔
	اس قول میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عاجِزی کا نام زہد ہے،نیزاس میں خودپسندی اور شہرت کی خواہش کی نَفِی کی طرف بھی اشارہ ہےجو کہ زہد کی ایک قسم ہے۔
٭…ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:رزقِ حلال کی تلاش زہد ہے۔
	ایک طرف ان بزرگ کا یہ فرمان ہے جبکہ دوسری طرف  حضرت سیِّدُنا اویس قرنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کا یہ قول کہ زہد یہ ہے کہ طلب کو ترک کردیا جائے اور بلاشبہ اس سے ان کی مراد رزقِ حلال کی طلب کو