Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
682 - 882
 ہیں ۔جب ان مخلصین نے یہ دیکھا کہ انہوں نے مثلاً:20 یا30 سال دنیوی نعمتوں سے لطف اندوزی کو ترک کرکے ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے لفط اندوز ہونے کا سودا کرلیا ہے تو وہ اپنے اس سودے پر بہت خوش ہوئے۔
	یہاں تک اس چیز کا بیان ہوا جس میں زہداختیار کیا جائے۔
	اس تمام گفتگو کو سمجھنے سے تمہیں یہ بات بھی سمجھ آجائے گی کہ صوفیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام نے زہد کی تعریف کرتے ہوئے اس کی بعض اقسام کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہر ایک نے وہی  ذکر کیا جسے خودپر یا مخاطب پر غالب دیکھا۔
زہد کی مختلف تعریفات:
٭…حضرت سیِّدُنا بِشر حافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں:دنیا سے زہد اس چیز کا نام ہے کہ لوگو ں سے بے رغبتی اختیار کی جائے۔
	اس قول میں خاص طور پر عزت ومرتبے کے معاملے میں زہد کی طرف اشارہ ہے۔
٭…حضرت سیِّدُنا قاسم بن عثمان جُوعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:دنیا سے زہد تو درحقیقت پیٹ کا زہد ہے،تم  جس قدر اپنے پیٹ پر قادر ہو اسی قدر زہد پر قادر ہو۔
	اس قول میں ایک شہوت کی طرف اشارہ ہے اور میری عمر کی قسم(1)!اکثر لوگوں پر یہ شہوت سب سے زیادہ غالب ہوتی ہے اوریہی انہیں  دیگر شہوتوں پر ابھارتی ہے۔
٭…حضرت سیِّدُنا فضیل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:زہد تو درحقیقت قناعت ہے۔
	اس قول میں مال کی طرف اشارہ ہے۔
٭…حضرت سیِّدُناسُفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:لمبی امیدنہ لگانا زہد ہے۔
	اس قول میں تمام شہوتوں کو جمع کردیا گیا ہے کیونکہ جو شخص شہوتوں کی طرف مائل ہوتا ہے اس کا نفس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰة المناجیح،جلد4،صفحہ337پر فرماتے ہیں:لَعَمْرِی(یعنی میری عمر کی قسم)قسم شرعی نہیں،وہ تو صرف خدا کے نام کی ہوتی ہے،بلکہ قسم لغوی ہے جیسے رب تعالیٰ فرماتا ہے: وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾  (پ۳۰،التین:۱)انجیر اور زیتون کی قسم۔لہٰذایہ فرمانِ عالی اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشادہوا کہ غیرخدا کی قسم نہ کھاؤ۔