Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
681 - 882
 مُبارَکہ کے نزول کے بعد دنیا سے بے رغبت حضرات بھی ظاہر ہوگئے اور منافقین کا پردہ بھی چاک ہوگیا۔ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّسے محبت کرنے والے زاہدین نے راہِ خدا میں اس شان سے جہاد کیا گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں اور دو عمدہ باتوں میں سے ایک کے مُنْتَظر ہوئے(یعنی انہیں امید تھی کہ یا تو فتح و غنیمت ملے گی یا شہادت و مغفرت)۔ ان حضرات کی شان یہ تھی کہ جب انہیں جہاد کے لئے بلایا جاتا تو گویا یہ جنت کی خوشبو کو سونگھتے تھے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دین کی مدد کرنے او رمرتَبَۂ شہادت پر فائز ہونے کے لئے اس بے قراری کے ساتھ جہاد کے لئے بڑھتے تھے جیسے ایک پیاسا ٹھنڈے پانی کی طرف بڑھتا ہے۔ان میں سے جسے اپنے بستر پر موت آتی وہ شہادت سے محرومی پر کَفِّ افسوس ملتا تھا۔چنانچہ جب اپنے بستر پر موجود گی کے عالَم میں  حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی موت کا وقت قریب آیا تو آپ فرمانے لگے:میں نے شہادت کے حصول کے لئے متعدد مرتبہ اپنی جان لڑائی اور دشمنوں کی صفوں پر حملہ آور ہوا اور آج مجھے بوڑھی عورتوں کی طرح (بستر پر)موت آرہی ہے۔انتقال کے بعد جب شمار کیا گیاتوآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے جسم پرجنگوں میں آنے والےزخموں کے800 نشانات تھے۔سچے ایمان والوں کا یہی حال ہوتا ہے۔رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن یعنی  اللہ عَزَّ  وَجَلَّان سب سے راضی ہو۔ 
	جبکہ منافقین کا حال یہ ہے کہ انہوں نے موت کے خوف سے جہاد سے راہِ فرار اختیارکی توان سے کہا گیا:
اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیۡ تَفِرُّوۡنَ مِنْہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیۡکُمْ (پ۲۸،الجمعة:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو ضرور تمہیں ملنی ہے۔
	منافقین کا دنیا میں رہنے کو شہادت پر ترجیح دینا ایک ایسے سودے کی طرح ہے جس میں بہتر چیز کو ترک کرکے معمولی چیز کو اختیار کیا جائے(ایسوں کے متعلق ارشاد ہوتا ہے): اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْہُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُہُمْ وَمَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ﴿۱۶﴾ (پ۱،البقرة:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے۔
	جبکہ مخلصین کا معاملہ یہ ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ان سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے عِوَض خرید لئے