تعالیٰ ہے: وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾ (پ۳۰،النٰزعٰت:۴۱،۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنت ہی ٹھکانا ہے۔
’’ہَوٰی‘‘ ایک ایسا جامع لفظ ہے جو دنیا میں موجود تمام نفسانی خواہشات کو شامل ہے، لہٰذ ااس کی مُخالَفَت کرنا زہد ہے۔
اگرتم نے اجمال اور تفصیل کایہ طریقہ سمجھ لیا تو تم یہ بھی جا ن لو گے کہ مذکورہ اُمور میں سے کوئی چیز دوسرے کے مقابل نہیں ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں یہ چیزیں تفصیل کے ساتھ ہیں تو کہیں اجمال کے ساتھ ۔
خلاصَۂ کلام:
اس تمام گفتگو کا حاصل یہ ہےکہ زہد تمام نفسانی خواہشات سے اِعراض کا نام ہے۔جب کوئی شخص نفسانی خواہشات سے اعراض کرتا ہے تو وہ دنیامیں زندہ رہنے کی خواہش سے بھی اعراض کرتا ہے اور لا مُحالہ اس کی امیدیں مختصر ہوجاتی ہیں۔ انسان کو زندہ رہنے کی خواہش اسی لئے ہوتی ہے تاکہ دنیا سے اِستفادہ کرے اور وہ لمبے عرصے تک زندہ رہ کر اس استفادے کو جاری رکھنا چاہتا ہے کیونکہ جو شخص کسی چیز کو پسند کرتا ہے تووہ اس کے ہمیشہ رہنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔زندگی سے محبت کا معنیٰ بھی یہی ہے کہ اس زندگی میں جونعمتیں انسان کے پاس ہیں یا جن کا ہونا ممکن ہےوہ ان کے باقی رہنے کا خواہش مند ہوتا ہے لیکن جب وہ زندہ رہنے کی خواہش سے ہی بے رغبت ہوجائے تو پھر ان نعمتوں کی بقا کا مُتَمَنِّی بھی نہیں رہتا ۔یہی وجہ ہے کہ جب جہاد فرض ہوا توبولے:
رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیۡنَا الْقِتَالَ ۚ لَوْلَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ؕ (پ۵،النسآء:۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے تونے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا۔
اس کے جواب میںاللہرَبُّ الْعِزت نے ارشادفرمایا: قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیۡلٌ ۚ (پ۵،النسآء:۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرمادو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے۔
یعنی تم لوگ دنیا میں اس لئے رہنا چاہتے ہو تاکہ دنیوی سازوسامان سےلطف اندوز ہوسکو۔اس آیتِ