ہے جو تعبیر کی محتاج ہوتی ہیں۔ یوں ہی جو کچھ آخرت کی جاگنے کی حالت میں ہوگا وہ دنیا کی نیند میں مثالوں کی کثرت سے واضح ہوتا ہے جیساکہ ہم خواب کی مثالوں کو علم تعبیر کے ذریعے پہچانتے ہیں۔ اگر سمجھ لو تو تمہارے لئے درج ذیل تین مثالیں کافی ہیں:
٭…ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا امام ابن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی:
”میں نے خواب دیکھا گویا میرے ہاتھ میں مہر ہے اور میں اس کے ساتھ مردوں کے مونہوں اور عورتوں کی شرم گاہوں پر مُہر لگا رہا ہوں۔“ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا:”تم مؤذن ہو اور ماہِ رمضان میں صُبْحِ صادِق سے پہلے اَذان دیتے ہو۔“ اس نے کہا:”آپ نے سچ فرمایا۔“
٭…ایک شخص نے حاضر ہوکر خواب سنایا کہ ”میں نے دیکھا گویا میں زیتون کا تیل زیتون میں ڈال رہا ہوں۔“ تو حضرت سیِّدُنا امام ابن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نے فرمایا:”اگر تو نے کوئی لونڈی خریدی ہے تو اس کے متعلق تَفْتِیْشِ اَحوال کر، وہ تیری ماں ہے جو تیرے بچپن میں قید کرلی گئی تھی کیونکہ زیتوں کے تیل کی اَصْل زیتون ہے تو وہ اصل کی طرف لوٹتا ہے۔“ چنانچہ اس نے تفتیشِ احوال کی تو واقعی وہ لونڈی اس کی ماں تھی جو اس کے بچپن میں قیدی بنالی گئی تھی۔
٭…ایک شخص نے عرض کی:”میں نے خواب دیکھا گویا میں خنزیروں کے گلے میں موتیوں کا ہار ڈال رہا ہوں۔“ حضرت سیِّدُنا اِمام اِبنِ سِیْرِین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نے یہ تعبیر ارشاد فرمائی کہ ”تم نااہلوں کو حکمت کی باتیں سکھاتے ہو۔“حقیقتاً ایساہی تھا جیسا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا۔
تعبیر شروع سے آخر تک ایسی مثالیں ہیں جو تمہیں مثالوں کو بیان کرنے کا طریقہ بتاتی ہیں۔ مثال سے ہماری مراد معنیٰ کو ایسی شکل وصورت میں بیان کرنا ہے کہ اگر اس کے معنیٰ کو دیکھا جائے تو وہ سچی ہو اور اگر اس کی ظاہری صورت کو دیکھا جائے تو وہ جھوٹ لگے۔ پس گُزشتہ مثال میں اگر مُؤ َذِّن ”مُہر“ کی شکل اور اس سے شرم گاہوں پر مُہر لگانے کو دیکھتا ہے تو اسے جھوٹا سمجھے گا کیونکہ اُس نے اِس سے کبھی بھی مُہر نہیں لگائی اور اگر وہ اس کے معنیٰ کی طرف نظر کرتا ہے تو اسے سچا پائے گا کیونکہ اس سے ”مہر“ کی روح اور معنی صادر ہوا ہے اور وہ ہے روکنا جو مہر سے مقصود ہوتا ہے۔