Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
679 - 882
 نفسانی لذات کی بنیاد انہی دونوں پر ہے۔
٭…چوتھے درجے میں اجمال: یہ ہے کہ علم،قدرت، درہم ودیناراور عزت ومرتبہ کے معاملے میں زہد اختیارکیا جائے۔اگرچہ مال کی کثیر اقسام ہیں لیکن درہم ودینار ان تمام کو شامل ہے ،یونہی عزت  ومرتبہ کے اگرچہ کثیر اسباب ہیں لیکن علم،طاقت اورقدرت ان سب کو شامل ہیں۔علم وقدرت سے ہماری مراد وہ علم وقدرت ہیں جن سے مقصود لوگوں کے دلوں کا مالک بننا ہو کیونکہ جاہ کا معنیٰ دلو ں کا مالک بننا اور ان پر قدرت حاصل ہونا ہے جیسا کہ مال کا معنیٰ نظر آنے والی چیزوں کی ملکیت اور ان پر قدرت کا حصول ہے۔
	اگر میں اس بات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنا شروع کروں تو جن چیزوں میں زہداختیار کیا جاتا ہے وہ شمار سے بھی زائد ہوجائیں گی۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے قرآنِ پاک کی ایک ہی آیت میں ان میں سے سات اشیاء کو بیان فرمایا ہے۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیۡنَ وَالْقَنَاطِیۡرِ الْمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیۡلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالۡاَنْعَامِ وَالْحَرْثِؕ ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاۚ  (پ۳،اٰل عمرٰن:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے۔
	پھر ان سات اَوصاف کو پانچ  میں منحصر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمْ وَ تَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ؕ (پ۲۷،الحدید:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جان لوکہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا۔
	پھر ان پانچ کوبھی دو مَعانی میں بیان فرمایا جو گزشتہ سات اوصاف کوشامل ہیں۔چنانچہ ارشادفرمایا:
اِنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ ؕ (پ۲۶،محمد:۳۶)
ترجمۂ کنز الایمان:دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے۔
	حتّٰی کہ قرآنِ پاک میں ایک مقام پر ان تمام معانی کو ایک ہی معنیٰ میں بیان فرمادیا۔چنانچہ ارشاد باری