Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
678 - 882
تنبیہ:
	ہرگز یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ اہْلِ جنَّت جب زیارتِ باری تعالیٰ کی سعادت سے مشرف ہوں گےتو اس وقت ان کے دلوں میں حوروں اور جنتی محلات کی لذت کو پانے کی خواہش باقی ہوگی۔اس اعلیٰ ترین نعمت کی لذت کے مقابلے میں دیگر جنتی نعمتوں کی لذت کا معاملہ ایسے ہے جیسے پوری کی پوری دنیا اور اس کی تمام مخلوق کا مالک بننے کی لذت کے مقابلے میں ایک چڑیا کے ہاتھ آنے اور اس سے کھیلنے کی لذت۔عارف اورصاحِبِ دل کے نزدیک جنتی نعمتوں کے طالب ایسے ہی ہیں جیسے پوری دنیا کی مِلکیَّت کی لذت کو ترک کرکے چڑیا سے کھیلنے کی لذت کو طلب کرنے والا بچہ،بچے کی اس طلب کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اسے ملکیَتِ دنیا کی لذت کا ادراک حاصل نہیں ہے،نہ یہ  کہ حقیقت میں چڑیا سے کھیلنے کی لذت  ملکیَّتِ دنیا کی لذت سے عمدہ و اعلیٰ ہے۔
مرغوب عنہ کے اعتبار سے زہد کے درجات
	جس چیز سے بے رغبتی اختیارکی جائےاس کے اعتبار سے زہد کی تقسیم کے بارے میں بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے مختلف اقوال ہیں جو کہ شاید 100سے بھی زیادہ ہیں،لہٰذا ہم انہیں نقل کرنے کے بجائے کچھ ایسی باتوں کی طرف اشارہ کریں گے  جوتفصیلات کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہوں تاکہ  یہ واضح ہوجائے کہ اس بارے میں منقول اکثر اقوال تما م اقسام کا اِحاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔
	 ہم کہتے ہیں:جس چیز سے بے رغبتی اختیار کی جائے وہ یا تو اِجمالی ہوگی یاتفصیلی،اگر تفصیلی ہو تو اس کے کئی مَراتِب ہیں جن میں سے بعض بعض اقسام کو زیادہ واضح کرتے ہیں جبکہ بعض میں  زیادہ وضاحت نہیں ہوتی۔
٭…پہلے درجے  میں اجمال: یہ ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا ہر چیزمرغوب عنہ ہے،لہٰذا ہر چیز سے بے رغبتی اختیارکی جائے حتّٰی کہ اپنے آپ سے بھی۔
٭…دوسرے درجے میں اجمال: یہ ہے کہ نفس کی ہر وہ صِفَت جس میں نفس کا فائدہ ہو اس سے زہد اختیا ر کرے۔یہ درجہ ان تمام چیزوں کو شامل ہے جن کاانسانی طبیعت تقاضا کرتی ہے۔مثلا ً:شہوت،غصہ،تکبُّر، حکومت،مال اور عزت وغیرہ۔
٭…تیسرے درجے میں اجمال: یہ ہے کہ عزت ومال اور ان کے اسبا ب میں زہداختیارکیا جائے کیونکہ تمام