Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
677 - 882
 دنیوی مال واسباب نہ  ہونے سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے تو پھریہ ہمارے پاس نہ ہوں۔
٭…دوسرادرجہ:یہ ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ملنے والے ثواب،نعمتوں اور جنت میں  جن انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے مثلاً:حوریں،مَحلّات وغیرہ ان پر نظر رکھتے ہوئے زہداختیارکیا جائے۔
	زہد کی یہ قسم امید رکھنے والوں کا حصہ ہے،یہ حضرات صرف اخروی مصائب وآلام سے چھٹکارے کی خاطر دنیا کو ترک نہیں کرتے بلکہ ان کی نظرہمیشہ  رہنے والی نعمتوں اورنہ ختم ہونےوالی  راحتوں پر بھی ہوتی ہے۔
٭…تیسرادرجہ:تیسرا اور اعلی ترین درجہ یہ ہےکہ بندہ صرف اور صرفاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی محبت کے سبب اور اس کے دیدار کی دولت پانے کے لئے  زہداختیار کرے، نہ تو اس کا دل اخروی عذابوں کی طرف متوجہ ہو کہ ان سے خَلاصی کا خیال دل میں آئے اور نہ ہی جنتی نعمتوں کی طرف توجہ ہو کہ انہیں پانے کی تمنا پیدا ہو بلکہ وہ ہمہ تناللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی محبت میں گم ہو ۔ایسا شخص اس مقام پر فائز ہوتا ہے کہ جب یہ صبح کرتا ہے تو اس کی ایک ہی لگن ہوتی ہے (یعنی رضائے الٰہی کا حصول)۔یہ شخص حقیقی معنیٰ میں صاحِبِ توحید ہےکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے علاوہ کسی کی طلب نہیں کرتا جبکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کسی چیز کو طلب کرنے والا گویا اس چیز کا بندہ ہے ۔ ہر مطلوب چیز ایک معنیٰ کے اعتبار سے معبودہے جبکہ ہر طالب اپنے مطلوب کی طرف نسبت کے لحاظ سے  اس کا بندہ ہے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کسی چیز کی طلب شرک خفی ہے۔
	زہد کی یہ اعلیٰ ترین قسم اہْلِ محبت کاحصہ ہے اور یہی  حضرات معرفَتِ الٰہی رکھنے والے ہیں کیونکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی خاص محبت صرف اسی کو حاصل ہوتی ہے جو عارِف بِاللہ ہو۔ 
مثال:
	ایک شخص کو دینار اور درہم دونوں کی پہچان حاصل ہواور وہ یہ بات بھی جانتا ہوکہ میں ان دونوں کو جمع نہیں کرسکتا تو وہ لا زمی طور پر دینار کو ہی اختیار کرے گا۔یونہی جسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے وجہِ کریم کی زیارت کی معرفت حاصل ہو اور یہ بات بھی اس کے علم میں ہو کہ اس لذت کو اور حوروں سےلطف اندو ز ہونے نیزجنتی محلات وباغات کو دیکھنے  کی لذت کو جمع کرنا ناممکن ہے تو وہ لازماً زیارتِ باری تعالیٰ کی لذت کو اختیار کرے گا اور کسی دوسری چیز کو ہر گز اس پر ترجیح نہ دےگا۔