Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
676 - 882
 بھلا وہ دوبارہ اس کی طرف کیسے متوجہ ہوسکتا ہے؟
	کوئی شخص اگر چہ 100سال تک زندہ رہے لیکن اسے دی جانے و الی دنیا کو آخرت میں ملنے والی نعمتوں سے وہ نسبت بھی نہیں  ہے جو روٹی کے ٹکڑے اور بادشاہ کے قرب کی نعمت کے درمیان ہےکیونکہ متناہی چیز(یعنی جس کی کوئی انتہاہو)کو لامتناہی چیز(یعنی جس کی کوئی انتہا نہ ہو) سے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی۔دنیاعنقریب  ختم ہونے والی ہے، اگربالفرض یہ ایک لاکھ سال تک باقی رہے اور اسکے ساتھ ساتھ یہ بالکل صاف شَفّاف بھی ہو اس میں کوئی میل کچیل نہ ہوتو بھی اسے آخرت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے کوئی نسبت نہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کی عُمْر قلیل اور دُنیوی لذات آلودہ اور میلی ہوتی ہیں ،بھلا ایسی چیز کو آخرت سے کیا نسبت ہوسکتی ہے۔
	یہ زہد کے مختلف درجات ہیں اور ان میں سے ہر ایک درجے کے کئی ذیلی درجے بھی ہیں کیونکہ مُتَزَہِّد کو زہد کی ابتدا میں جو صبر کرنا پڑتا ہے اور اس راہ میں جو مشقتیں درپیش ہوتی ہیں وہ مختلف قسم کی ہوتی ہیں نیز اپنے زہد کے حوالے سے خود پسندی کے شکار شخص کے اپنے زہد کی طرف متوجہ ہونے کی مقدار کے سبب اس درجے میں بھی تقسیم ہوتی ہے۔
مرغوب فیہ کے اعتبار سے زہد کے درجات
	مرغوب فیہ کے اعتبار سے بھی زہد کے تین درجے ہیں:
٭…پہلا درجہ:یہ سب سےادنیٰ درجہ ہے کہ بندے کا مرغوب ومطلوب عذابِ جہنم اور ان دیگر مَصائب وآلام سے چھٹکارے کا حصول ہو جن کی احادیْثِ مبارکہ میں  خبر دی گئی ہےمثلاً:عذابِ قبر،حساب کی سختی،پُل صراط سے گزرنااور دیگر مشکل معاملات۔
	مروی ہے کہ  ایک شخص کو حساب کتاب کے لئے کھڑا کیا جائے گا تو اسے اس قدر پسینہ آئے گا کہ اگر 100پیاسے اونٹ بھی اسے پیئیں تو اچھی طرح سیراب ہوجائیں۔(1)
	زہد کی یہ قسم خائفین کا حصہ ہے،کیونکہ روزِ قیامت مال دار کو اس کے مال کے سبب روکا جائے گا جبکہ دنیا سے تَہی دامن افراد حساب کتاب سےفوراً چھٹکارا پالیں گے،لہٰذا وہ اس بات پر راضی ہوتے ہیں کہ اگر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبد اللہ  بن العباس،۱/ ۶۵۲، حدیث:۲۷۷۱،بتغیر،’’مائة‘‘ بدلہ ’’الف‘‘