Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
675 - 882
 کرے اسی طرح زہد کے اس درجے پر فائز شخص اس بات سے مامون ومحفوظ ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ دنیا کی لذتوں میں مشغول ہوجائے۔
دنیا اس قابل ہی نہیں کہ اس میں زہداختیار کیا جائے:
	حضرت سیِّدُناابویزیدبسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِینے حضرت سیِّدُناابوموسٰی عبدالرحیمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالکَرِیم سےپوچھا:آپ کس چیز کے بارے میں بات کررہے ہیں؟انہوں نے کہا:زہد کے بارے میں۔پھرپوچھا: کس چیز میں زہدکے بارے ؟فرمایا:دنیاسے زہد کے بارے میں۔حضرت سیِّدُناابویزیدبسطامیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نےاپنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے فرمایا:میں سمجھا کہ آپ کسی قابلِ ذکر چیز کے بارے میں بات کررہے ہیں،دنیا کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے پھر اس میں زہد کیسے اختیار کیا جائے۔
آخرت کے لئے دنیا کو ترک کرنے والے کی مثال:
	مَعْرِفَت ،مُشاہَدات  اورمُکاشَفات سے آباددلوں والے حضرات کے نزدیک آخرت کےلئے دنیا کو ترک کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ کے دروازے پر موجود کُتّا اندر جانے سے روک دے،یہ شخص اس کتے کےآگے روٹی کا ایک لقمہ  ڈال دے اورجب وہ اسے کھانے میں مشغو ل ہو تو یہ اندر داخل ہوجائے،پھر اسے بادشاہ کا قرب نصیب ہوجائے یہاں تک کہ پوری سلطنت میں اس کا حکم جاری ہوجائے۔کیاتمہارے خیال میں وہ شخص بادشاہ پر اپنا احسان سمجھے گا کہ اس کا قرب پانے کے عوض میں نے اس کے کتےکے آگے روٹی کا لقمہ ڈالا تھا۔
	شیطان بھی ایک کتے کی طرح ہے جواللہ عَزَّ  وَجَلَّکے دروازے پر موجود ہے اور لوگوں کو اندر داخل ہونے سے روکتا ہے اگرچہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت کا دروازہ کھلا ہوا ہے،پردے اٹھادئیے  گئے ہیں اور ہر کسی کو داخلے کی اجازت ہے۔دنیا اپنی تمام تر نعمتوں سمیت روٹی کے ایک لقمے کی مانند ہے،اگر تم اسے کھالوتو اس کی لذت صرف چبانے کے وقت تک محدود ہے،حلق سے نیچے اترتے ہی اس کی لذت ختم ہوجاتی ہے، معدے میں اس کا بوجھ باقی رہتا ہے اور آخرِ کار یہ گندگی اور نجاست کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور انسان اسے اپنے جسم سے باہر نکالنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔جو شخص ایسی حقیر چیز کو بادشاہ کا قرب پانے کے لئے ترک کردے