مُتَزَ ہِّد پہلے اپنے نفس سے مقابلہ کرکے اسے زہد کے لئے تیار کرتا ہے اور پھر اپنےمال سےمقابلہ کرکے دنیا کو اپنے سے دور کرتا ہے جبکہ زاہد پہلے اپنے مال سے مقابلہ کرتا ہے اور پھر نیکیوں کے معاملے میں اپنے نفس سے مقابلہ کرتا ہے ،اسے اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ جو دنیا اس نے اپنے آ پ سے دور کردی ہے اس پر صبر کرنے کے لئے نفس سے مقابلہ کرے۔’’مُتَزَ ہِّد‘‘مسلسل خطرے سے دوچار رہتا ہےکیونکہ بعض اوقات نفس اس پر غالب آجاتااورشہوت اسے اپنی طرف مائل کر لیتی ہے جس کی وجہ سے یہ دوبارہ دنیا اور اس کی نعمتوں میں مشغول ہوجاتا ہے۔
٭…دوسرا درجہ:زہد کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ بندہ دنیا پر قادر ہونے کے باوجود اسے آخرت کے مقابلے میں حقیر جانتے ہوئے ترک کردے،اس کی مثال ایسی ہے جیسےکوئی شخص دو درہم حاصل کرنے کے لئے ایک درہم کو چھوڑ دے۔ ایسے شخص کو اگر چہ تھوڑا انتظار کرنا پڑتا ہےلیکن یہ بات اسے گِراں نہیں گزرتی، البتہ یہ زاہد لا مُحالہ اپنے زہد کو دیکھتا اور اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے جیسے کسی چیز کو بیچنے والا اپنی چیز کو دیکھتا اور اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔اس شخص کے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ یہ اپنی ذات اور اپنے زہد کے معاملے میں خو د پسندی کا شکار ہوجائے اور یہ گمان کرنے لگے کہ میں نے ایک قابلِ قدر چیز کو اس سے اعلیٰ چیز کے لئے ترک کیا ہے ،اس قسم کی سوچ نقصان کا باعث ہے۔
٭…تیسرا درجہ:یہ درجہ پہلے دونوں درجوں سے اعلیٰ ہے۔اس کی صورت یہ ہے کہ بندہ اختیاری طور پردنیا کو ترک کردے اور پھر اپنے زہد میں بھی زہد اختیار کرےیعنی اپنے آپ کو زاہد نہ سمجھے،چونکہ ا س کے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اس لئے وہ یہ نہ سمجھے کہ میں نے کسی چیز کو ترک کیا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو مٹی کے ڈھیلے کے عوض قیمتی موتی حاصل ہوجائے تو وہ اسے کوئی مُعاوَضہ نہیں سمجھتا اور نہ ہی یہ گمان کرتا ہے کہ میں نے اس موتی کو حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کو ترک کیا ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوراُخْرَوی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا اس سے کہیں زیادہ حقیر ہے جتنا کہ مٹی کا ڈھیلا قیمتی موتی کے سامنے۔ یہ زہد کا کمال درجہ ہے اوریہ اُسے حاصل ہوتا ہے جسے معرفت کا کمال حاصل ہو۔جس طرح مٹی کے ڈھیلے کے عوض قیمتی موتی پانے والے شخص کے بارے میں اس بات کا اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ اس سودے کو ختم