Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
673 - 882
 جو نہ تو کسی دنیوی چیز کے آنے پر خوش ہوتے تھےاور نہ ہی اس کے جانے پر افسوس کرتے تھے،دنیا ان کی نگاہوں میں مٹی سے بھی کم حَیْثِیَّت رکھتی تھی ۔ان میں سے ایک شخص50یا60 سال تک زندہ رہتا تھا لیکن نہ تو اس کے لئے کپڑاتہہ کیا جاتا اور نہ ہی ہانڈی چڑھائی جاتی،نہ تو وہ زمین پر کچھ بچھاتا اور نہ ہی گھر والوں سے کھانا پکانے کی فرمائش کرتا۔جب رات آتی تو یہ نُفُوْسِ قُدْسِیہ بارگاہِ خداوندی میں قیام اورسجدے بجالاتے،خوفِ خدا کے باعث ان کے رخساروں پر آنسوؤں کا دھارا جاری ہوجاتا اور یہ رورو کراللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے عذابِ جہنم سے نجات کی دعا کرتے۔ان حضرات کو جب نیک اعمال کی توفیق ملتی تو اس نعمت کا شکر بجالانے میں مصروف ہوجاتے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے قبُولِیَّت کا سوال کرتے اور اگر بَتقاضائے بَشَرِیَّت کوئی گناہ سرزد ہوجاتا تو غم زدہ ہوجاتے اور بارگاہِ خداوندی میں معافی کے خواسْت گار ہوتے۔یہاللہ والے اسی حالت پر قائم رہےمگراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم!اس کے باوجود یہ لوگ گناہوں سے محفوظ نہ رہے اور ان کی نجات صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فضل وکرم سے ممکن ہوئی۔	اللہ عَزَّ  وَجَلَّان پررحمت و رضوان کی بارش برسائے!(اٰمین)
زہد کے مختلف درجات و اقسام
	زہد کی تقسیم تین طرح سے کی جاسکتی ہے:(۱)نفْسِ زہد کی اقسام (۲)مَرْغُوْب عَنْہ(یعنی جس چیز سے بے رغبتی کی جائے اس)کے اعتبار سے زہد کی اقسام(۳)مَرْغُوْب فِیْہ(یعنی جس شے  میں رغبت کی جائے اس )کے اعتبار سے زہد کی اقسام(1)۔
نفسِ زہد کے درجات
	زہد کی قوت کے مختلف ہونے کے اعتبار سےاس کے تین درجے ہیں:
٭…پہلا دَرَجہ: تینوں درجات میں سب سے ادنیٰ ہے۔اس کی صورت یہ ہےکہ بندے  کو دنیا کی خواہش ہےاور اس کا دل بھی اس کی طرف مائل ہے لیکن یہ نفس سے مُقابَلہ کرے اور بکوشش خود کو روک کر زہد اختیار کرے۔تصوُّف کی اِصْطِلاح میں ایسے  شخص کو ’’مُتَزَ ہِّد‘‘کہا جاتا ہے۔جو شخص کوشش اور کسب کے ذریعے زہد کے مرتبے پر فائز ہونا چاہے اس کے لئے مذکورہ صورت(یعنی زاہد بننا)زہد کا نکتَۂ آغاز ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… کتاب میں ہر جگہ مَرْغُوْب عَنْہ اورمَرْغُوْب فِیْہ سے یہی معنیٰ مراد ہوں گے۔