Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
672 - 882
موجود ہے اس پر خوش ہونا(۲)…جو موجود نہیں اس پر غم ناک ہونااور(۳)…تعریف کئے جانے پر خوش ہونا۔توجو موجود چیز پر خوش ہو وہ حریص ہے اور حریص محروم رہتا ہے،جو غیر موجود چیز پرغمگین  ہو وہ تقدیر سے ناراض ہے اور تقدیر سے ناراض ہونےوالا عذاب کا حق دار ہے جبکہ تعریف سن کر خوش ہونے والا خود پسندی کا شکار ہے اور خودپسندی کے سبب اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔
(14)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:جس شخص کو زہد کی دولت حاصل ہو اس کادو رکعت نماز ادا کرنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّکو (غیْرِ زاہِد )عبادت گزاروں کی ہمیشہ کی عبادت سے زیاد ہ پسند ہے۔
بڑی نعمت:
(15)…ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی نعمتوں میں سے دنیا کو ہم سے  دور کرنے کی نعمت دنیا عطا فرمانے کی نعمت سے بڑی ہے۔
	غالباًان کے پیشِ نظر یہ فرمانِ مصطفٰے تھا:بے شکاللہ عَزَّ  وَجَلَّاپنے محبوب بندے کودنیا سے اس طرح بچاتا ہے جس طرح تم اپنے مریض کو کھانے اور پینے سے بچاتے ہو جس سے اسے نقصان کا اندیشہ ہو۔(1)
 	اس حدیثِ پاک کو سمجھنے سے یہ بھی پتاچلاکہ کوئی چیز نہ دے کر صحت تک پہنچانے والی نعمت کوئی چیز دے کر بیماری تک پہنچانے والی نعمت سے بڑی ہے۔
(16)…حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرمایا کرتے تھے:دنیا باقی رہنے کا نہیں بلکہ ہلاکت کا مقام ہے،خوشی کا نہیں بلکہ رنج و غم کا مقام ہے۔جس شخص کو اس بات کی معرفت حاصل ہوگئی وہ نہ تو کسی نعمت پر خوش ہوگا اور نہ ہی کسی محرومی پرغم زدہ۔ 
(17)…حضرت سیِّدُنا سَہْل تُسْتَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:کسی عبادت گزار کا عمل اس وقت تک خالص نہیں ہوسکتا جب تک اسے چار چیزوں کا خوف نہ ہو:(۱)…بھوک(۲)…بے لباسی(۳)…فقراور(۴)… ذلت۔
نیک لوگوں کے حالات:
(18)…حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:میں ایسے نیک بندوں کی صحبت میں رہا ہوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث محمود بن لبید،۹/ ۱۵۹، حدیث:۲۳۶۸۹