سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں10ہزاردرہم کا نذرانہ پیش کیا لیکن آپ نے قبو ل نہ فرمایا۔آپ کے بیٹوں نے عرض کی:فقہا نے خلیفہ کے تحائف قبول کرلئے جبکہ آپ اس قدر تنگ دستی کے باوجود واپس کررہے ہیں؟یہ سن کر حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روتے ہوئے فرمایا:کیا تمہیں معلوم ہے کہ میری اور تمہاری مثال کیا ہے؟ہماری مثال ایسی ہے جیسے کسی کے پاس ایک گائے ہو جس سے وہ کھیتی باڑی کرتا ہو۔جب وہ بوڑھی ہو کر کھیتی کے قابل نہ رہی تو اس کی کھال سے نفع حاصل کرنے کے لئے اسے ذبح کردیا۔تمہارا معاملہ بھی یہی ہے کہ تم بڑھاپے میں مجھے ذبح کرنا چاہتے ہو۔اے میرے اہل وعیال!تمہارا بھوک سے مرجانااس سے بہتر ہے کہ تم فضیل کو ذبح کردو۔
سیِّدُنا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کا زہد:
(10)…حضرت سیِّدُنا عبید بن عمیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بالوں کا لباس پہنتے اور درختوں کے پتے تناوُل فرماتے تھے۔آپ عَلَیْہِ السَّلَامکی کوئی اولاد نہ تھی کہ جس کی موت واقع ہو،نہ کوئی گھر تھا کہ جس کی ویرانی کا خوف ہو اور نہ ہی آپ اگلے دن کے لئے جمع فرماتے تھے۔رات کے وقت جہاں جگہ ملتی وہیں آرام فرماہوجاتے۔
(11)…حضرت سیِّدُناابو حازِمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زوجہ نے آپ سے عرض کی:سردی کا موسم آچکا ہے اور اس موسم کے لئے کھانے،کپڑوں اور لکڑی کی ضرورت ہے؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:ان سب چیزوں کے بغیر تو گزارہ ممکن ہے لیکن موت سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں،موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں پیش ہونے کا مُعامَلہ ہے اور آخرِ کار جنَّت یا جہنَّم ٹھکانا ہے۔
(12)…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے عرض کی گئی:آپ اپنے کپڑوں کو دھوتے کیوں نہیں؟فرمایا:موت اس سے بھی جلد آنے والی ہے۔
دلوں پر تین پردے:
(13)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں:ہمارے دلوں پر تین پردے چڑھے ہوئے ہیں اور بندہ یقین کے درجے پر اسی وقت فائز ہوسکتا ہے جب یہ رکاوٹیں ختم ہوجائیں:(۱)…جو چیز