Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
670 - 882
(3)…ایک صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاولین تابعیْنِ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسےفرمایا:تمہارےمجاہدات اوراعمال صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے زیادہ ہیں ، اس کے باوجود وہ تم سے افضل ہیں۔عرض کی گئی:اس کا کیا سبب ہے؟فرمایا:وہ حضرات تمہاری نسبت دنیا سے زیادہ بے رغبت تھے۔
بدن اور دل کی راحت کا سبب:
(4)…حضرت سیِّدُناعُمَر فارُوقرَضِیَ اللہُ عَنْہفرماتے ہیں:دنیا سے بے رغبتی بدن اور دل کی راحت کا سبب  ہے۔
(5)…حضرت سیِّدُنا بلال بن سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:گناہ گار ہونے کے لئے اتنی بات ہی کافی ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں دنیا سے بے رغبتی دلاتا ہے اور ہم اسی میں راغب ہوتے ہیں۔
گم شدہ چیز:
(6)…ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی خدمت میں عرض کی:میں کسی زاہد(یعنی دنیاسے بے رغبت) عالِم کی زیارت کرنا چاہتا ہوں؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:تیری خرابی ہو!یہ ایک ایسی گمشدہ چیز ہے جو اب نہیں پائی جاتی۔
(7)…حضرت سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جنت کے آٹھ دروازے ہیں ،جب اہْلِ جنت ان میں سے داخل ہونا چاہیں گے تو دروازوں پر مُقَرَّر فَرِشتے کہیں گے:ہمارے ربعَزَّ  وَجَلَّ کی عزت کی قسم!جنت کے عاشقوں اوردنیا سے بے رغبت رہنے والوں سے پہلے کوئی شخص  جنت میں نہیں جائے گا۔
تین نادر خواہشات:
(8)…حضرت سیِّدُنا یوسُف بن اَسباطرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں تین باتوں کی خواہش کرتا ہوں جب میری موت واقع ہو تو:(۱)… میری مِلکیَّت میں ایک بھی درہم نہ ہو(۲)…مجھ پر کسی کا قرض نہ ہو اور(۳)… میری ہڈیوں پر گوشت نہ ہو۔چنانچہ آپ کی یہ تینوں خواہشات پوری ہوئیں۔
اہل و عیال کی تربیت:
(9)…بنوعباس کے ایک خلیفہ نے فقہاکے لئے تحائف بھیجے جنہیں ان حضرات نے قبول کرلیاجبکہ حضرت