ایک پر بھی مُواظَبَت اِختیار کرتا ہے تو وہ گواہی کے رَد کرنے کے معاملے میں ضرور اثرانداز ہوگا مثلاً کوئی شخص غیبت اور عیب جوئی کو اپنی عادت بنالے اور ایسے ہی فاسق وفاجر لوگوں کے ساتھ بیٹھک اور ان سے دوستی کاحکم ہے کہ صغیرہ گناہ کے باربار ارتکاب سے وہ کبیرہ ہوجاتا ہے جیساکہ مباح (جائز) کام اگر بار بار کیا جائے تو وہ صغیرہ گناہ ہوجاتا ہے(1) جیسے شطرنج کھیلنا اور ہمیشہ تَرنّم کے ساتھ گانے گانا۔
پس یہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کے حکم کا بیان ہے۔
دوسری فصل: نیکیوں اور گناہوں پر ملنے والے درجات
وٹھکانوں کی تقسیم کی کیفیت
جان لیجئے کہ ظاہری عالَم کا نام ”دُنیا“ ہے اورپوشیدہ عالَم کا نام ”آخرت“ ہے۔ دنیا سے مراد موت سے پہلے کی حالت ہے اور آخرت سے مراد موت کے بعد کی حالت ہے۔ پس تمہاری دنیا اور آخرت تمہاری صفات اور احوال ہیں پھر جو ان میں سے قریب ہے وہ ”دنیا“ اور جودُور ہے وہ ”آخرت“ ہے۔
یہاں ہم جس قدر دنیا کا آخرت سے تعلق ہے اس کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ بات تو دنیا کے متعلق ہوگی جو”عالَمِ مُلْک“ ہے مگر اس سے ہماری غَرَض آخرت ہے جوکہ ”عالَمِ مَلَکُوْت یعنی غیبی دنیا“ہے اور ”عالَمِ مُلْک“ میں ”عالَمِ مَلَکُوْت“ کی شرح بغیر مثالوں کے نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَمَا یَعْقِلُہَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾ (پ۲۰،العنکبوت:۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان فرماتے ہیں اور اُنھیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔
ایسا اس لئے بھی ہے کہ عالَمِ مُلْک عالَمِ مَلَکُوْت کی طرف نِسْبَت کے لحاظ سے ایک طرح کی نیند ہے۔چنانچہ مروی ہے:”اَلنَّاسُ نِیَامٌ فَاِذَا مَاتُوْا اِنْتَبـَھُوْا یعنی لوگ سوئے ہوئے ہیں جب مریں گے تو جاگ جائیں گے۔“(2)
آخرت خوابِ دنیا کی تعبیر ہے:
جو کچھ عنقریب بیداری میں ہونے والا ہوتا ہے وہ خواب میں صرف ایسی مثالوں کے ذریعے ظاہر ہوتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اس مسئلے کی تفصیل جاننے کے لئے دارالافتاء اہلسنت کے اس نمبر2204497- 0302پررابطہ فرمائیں۔
2…حلیة الاولیاء ، سفیان الثوری،۷/ ۵۴، رقم:۹۵۷۶ ، قول سفیان الثوری۔