دونوں کناروں میں گردن کے پاس گرہ لگالی اوراسی حالت میں نماز ادا فرمائی؟
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسی قسم کی باتیں کرتے رہےیہاں تک کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَارونے لگیں،خود امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی روتے ہوئے ایسی چیخ ماری گمان ہوا کہ اسی حالت میں آپ کی روح قَفسِ عُنْصُری سے پرواز کرجائے گی۔
بعض رِوایات میں اتنا زائد ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَرفارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میرے دونوں رُفَقا(یعنی حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے ایک راستے کوا ختیار کیا تھا،اگر میں ان کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا تومجھے اسی دوسرے راستے پر لے جایا جائے گا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!میں ان کی سخت زندگی کو اختیار کرنے پر صبر کروں گا تاکہ آخرت میں ان کے ساتھ عیش وراحت کی زندگی پاسکوں۔
انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی آزمائشیں:
(16)…حضر ت سیِّدُناابوسعیدخدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:مجھ سے پہلے کےانبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کو فقر کے ذریعے آزمایا جاتا تھا اور وہ صرف ایک چادر پہنتے تھے ،نیز جوؤں کے ذریعے ان کی آزمائش کی جاتی تھی یہاں تک کہ ان کے سبب وہ وصال فرماجاتےاور یہ تکلیفیں انہیں اس سے زیادہ پسند تھیں جس قدر تم میں سے کسی کو تحفے کا ملنا پسند ہوتا ہے۔ (1)
سیِّدُنا موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکا زہد:
(17)…حضرت سیِّدُناابْنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامجب مدین کے کنویں پر تشریف لائےتو کمزوری کے باعث ترکاری کی سبزی آپ کے پیٹ مبارک کے باہر سے نظرآتی تھی۔ (2)
ان دونوں روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام جو کہ تمام مخلوق میں سب سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المستدرک علی الصحیحین، کتاب الایمان، باب اشد الناس بلاء،۱/ ۲۰۳،حدیث :۱۲۶، اختصارًا
2… تفسیر درمنثور، پ۲۰ ، القصص ، تحت الاٰیة:۲۳،۶/ ۴۰۵