Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
663 - 882
 کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس بارے میں آپ بارگاہِ الٰہی میں عرض کیوں نہیں کرتے؟توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمايا:اے عائشہ!اس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے!اگر میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّسے اس بات کا سوال کروں کہ دنیا کے پہاڑ سونا بن کر میرے ساتھ چلیں اور میں جہاں بھی جاؤں میرے ساتھ ساتھ رہیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میری اس عرض کو ضرور پورا فرمائے لیکن میں نے دنیا کی بھوک کو شکم سیری پر،فقر کو مال داری پر اور غم کو خوشی پر ترجیح دی ہے۔اے عائشہ!دنیامیرے اور میری آل کے لائق نہیں ہے۔اے عائشہ!اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُوْلُواالْعَزم(ہمت والے)رسولوں سے صرف اس بات پر راضی ہوا ہے کہ وہ دنیا کی تکلیفوں پر اور اس کی آسائشوں کو ترک کرنے پر صبر کریں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّنےمجھے بھی اسی بات کا حکم دیاہے جس کا رسولوں کو دیاتھا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (پ۲۶،الاحقاف:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:توتم صبر کرو جیساہمت والے رسولوں نے صبرکیا۔(1) ے لئے جنت ہے۔۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم!اس کی اطاعت کے سوا میرے پاس کوئی چارۂ کارنہیں۔بخدا!ان رسولوں کی طرح میں بھی اپنی طاقت کے مطابق صبر کروں گااور قوت وتوفیق اللہ عَزَّ  وَجَلَّہی کی طرف سے ہے۔ (2)
اَحوالِ مصطفٰے کی یاد:
	مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےدورِخلافت میں جب کثیر فتوحات ہوئیں تو آپ کی صاحب زادی اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے آپ سے عرض کی: جب آپ کے پاس بیرونی وفود آئیں تو آپ عمدہ لباس پہن لیا کریں اور اچھا کھانا پکوایا کریں جس میں سے آپ بھی کھائیں اور ان مہمانوں کو بھی کھلائیں۔یہ سن کرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:اے بیٹی!کیا تم نہیں جانتیں کہ مرد کے حال کو سب سے بہتر اس کی بیوی جانتی ہے؟ اُمُّ المؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانےعرض كی:جی ہاں!ایسا ہی ہے۔
	فرمایا:ميں تمہیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نہیں جانتیں کہ حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تفسیر روح البیان، پ ۴، اٰل عمرٰن، تحت الاٰیة:۱۷۸،۲/ ۱۳۰
2…اخلاق النبی واٰدابہ،باب ذکرزھدہ صلی اللہ علیہ وسلم…الخ،ص۱۵۴،حدیث:۸۰۶