جاری فرمادیتا ہے ،اسے دنیا کی بیماری اور اس کے علاج کی پہچان عطا فرماتا ہے اور اسے دنیا سے صحیح سلامت نکال کرسلامتی کے گھر (یعنی جنت کی طرف)لے جاتا ہے۔(1)
(14)…تاجدارِرِسالت،شہنشاہِ نَبُوَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ہمراہ 10ماہ کی حاملہ کچھ اونٹنیوں کے پاس سے گزرے،ان کے تھن دود ھ سے بھرے ہوئے تھے۔اس قسم کی اونٹنیاں اہْلِ عرب کے نزدیک سب سے قیمتی اور پسندیدہ مال ہوتی ہیں کیونکہ ان سے سواری،گوشت،دودھ ، اون اور بچوں جیسے مَنافع حاصل ہوتے ہیں۔اہْلِ عرب کے نزدیک ایسی اونٹنیوں کی اہمیت کے پیشِ نظراللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کی ہولناکیوں کو بیان کرتے ہوئےارشاد فرماتا ہے: وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ۪ۙ﴿۴﴾ (پ۳۰،التکویر:۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جب تھلکی(گابھن)اونٹیاں چھوٹی پھریں۔ ے لئے جنت ہے۔۔
آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان اونٹنیوں کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنی نظریں جھکالیں اور ان سے منہ پھیر لیا۔عرض کی گئی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ تو ہمارا سب سے عمدہ مال ہے،آپ اس کی طرف نظر کیوں نہیں فرماتے؟ارشاد فرمایا:قَدْ نَهٰنِیَ اللہ عَنْ ذٰلِكَیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اس سے منع فرمایا ہے۔(2)پھریہ آیتِ مُقَدَّسَہ تلاوت فرمائی: وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہۡرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۬ۙ لِنَفْتِنَہُمْ فِیۡہِ ؕ وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّ اَبْقٰی ﴿۱۳۱﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۱۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے۔ ے لئے جنت ہے۔۔
مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا زہداختیاری تھا:
(15)…حضرت سیِّدُنامَسْرُوْقرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:میں نے مکی مدنی مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بھوک دیکھ کرروتے ہوئے عرض
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شعب الایمان،باب فی الزھد وقصرالامل،۷/ ۳۴۶،حدیث:۱۰۵۳۲
2…تفسیرروح البیان، پ۴، آل عمران، تحت الاٰیة:۱۹۸،۲/ ۱۵۵،بتقدم وتاخر بعض الفاظہ