Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
661 - 882
 کی ملاوٹ نہ کرے اس کےلئے جنت واجب ہوجائے گی۔(1)یہ سن کرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے کھڑےہوکر عرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے ماں باپ آپ پر قربان!ہمارے لئے اس بات کی وضاحت فرمادیجئے کہ ایمان کے ساتھ کسی چیز کی ملاوٹ کرنے سے کیا مراد ہے؟ارشادفرمایا:دنیا سے محبت کرتے ہوئے اسے طلب کرنا اور اس کی پیروی کرنا،کچھ لوگ ایسے ہیں جوباتیں تو انبیاکی باتوں کی طرح کرتے ہیں لیکن ان کے اعمال ظالموں والے ہوتے ہیں۔جو شخص ایمان لائے اور اس میں ان چیزوں کی ملاوٹ نہ کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔(2) 
(11)…اَلسَّخَآءُ مِنَ الْيَقِيْنِ وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مُوْقِنٌ وَّالْبُخْلُ مِنَ الشَّكِّ وَلَا يَدْخُلُ الْجَــنّةَ مَنْ شَكَّیعنی سخاوت یقین میں سے ہے اور کوئی یقین رکھنے والا شخص جہنم میں  نہیں جائےگا جبکہ بخل شک میں سے ہے اور کوئی شک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔(3)
(12)…اَلسَّخِیُّ قَرِيْبٌ مِّنَ اللہ قَرِيْبٌ مِّنَ النَّاسِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْجَــنَّةِ وَالْبَخِيْلُ بَعِيْدٌ مِّنَ اللہ بَعِيْدٌ مِّنَ النَّاسِ قَرِيْبٌ مِّنَ النَّارِیعنی سخیاللہ عَزَّ  وَجَلَّسے،لوگوں سے اور جنت کے قریب ہوتا ہے جبکہ بخیلاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور لوگوں سے دور جبکہ جہنم کے قریب ہوتا ہے۔(4)
	بخل دنیا میں رغبت کا نتیجہ ہے جبکہ سخاوت زُہْد کا پھل ہے اور پھل کی تعریف درحقیقت اس کے درخت کی تعریف ہوتی ہے(لہٰذا اس روایت میں سخاوت کے درخت یعنی زہد کی تعریف کی گئی ہے)۔
زہد کے ثمرات:
(13)…مَنْ زَهَدَ فِی الدُّنْيَا اَدْخَلَ اللہ الْحِكْمَةَ قَلْبَهٗ فَاَنْطَقَ بِهَا لِسَانَهٗ وَعَرَّفَهٗ دَآءَ الدُّنْيَا وَدَوَآءَهَا وَاَخْرَجَهٗ مِنْهَا سَالِمًا اِلٰى دَارِ السَّلَامِیعنی جو شخص دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتا ہےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے دل میں حکمت داخل فرماکراس کی زبان پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،شرح مقامات الیقین،۱/ ۴۱۸
2…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،شرح مقامات الیقین،۱/ ۴۱۸
3…تفسیر درمنثور ، پ :۲۲، سباء، تحت الاٰیة: ۳۹،۶/ ۷۰۸،’’موقنِ‘‘ دون ’’من ایقن‘‘ معہ بعض الجمل بتقدم وتاخر
4…سنن الترمذی، کتاب البروالصلة، باب ماجاء فی السخاء،۳/ ۳۸۷،حدیث :۱۹۶۸، بتقدم وتاخر بعض الالفاظ