جواب: یادرکھئے!ہم گواہی کے رَد کرنے کو کبیرہ گناہوں کے ساتھ خاص نہیں کرتے۔ اس بات میں کوئی اِختلاف نہیں کہ”جو شخص باجے سنتا ہے اور ریشم پہنتا ہے اور سونے کی انگوٹھی پہنتا اور سونے چاندی کے برتنوں میں کھاتا پیتا ہے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔“ حالانکہ کسی نے بھی ان اَفعال کو کبیرہ گناہ نہیں قرار دیا۔ چنانچہ
حضرت سیِّدُنا امام محمد بن اِدرِیس شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے فرمایا:”اگر کوئی حنفی نبیذ (رس) پیئے گا تو میں اسے حد تو لگاؤں گا لیکن اس کی گواہی کو رَد نہیں کروں گا۔“
یہاں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حد کو واجب کہہ کر اسے کبیرہ گناہ تو قرار دیا لیکن اس کی وجہ سے اس کی گواہی کو مردود نہیں کہا۔ واضح ہوگیا کہ گواہی کے قبول ہونے یا نہ ہونے کا تعلق صغیرہ یا کبیرہ گناہوں سے نہیں بلکہ تمام ہی گناہ عدالت (گواہی کے قابل ہونے کی صلاحیت) کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ البتہ! عادات میں داخل ہوجانے کے سبَب جن گناہوں سے آدمی بچ نہ سکتا ہو جیسے غیبت، عیب جوئی، بَدگُمانی، بعض باتوں میں جھوٹ بولنا، غیبت سننا، امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہ کرنا، مشتبہ چیزیں کھانا، اولاد اور غلام (نوکر وملازم) کو گالی دینا اور انہیں محض غصے کے سبب مصلحت وضرورت سے زیادہ مارنا پیٹنا، ظالم حکمرانوں کی عزت کرنا، فاسقوں اور فاجروں سے دوستیاں لگانا اور بیوی بچوں کو ان کی حاجت کی مقدار دینی تعلیم دلانے میں سستی کرنا۔
یہ ایسے گناہ ہیں کہ کوئی بھی گواہ ان سے مکمل طور پر خالی نہیں ہوتا۔ ہاں! یوں بچ سکتا ہے کہ لوگوں سے الگ ہوجائے، فقط آخرت کے کاموں کے لئے گوشہ نشینی اختیار کرلے اور ایک لمبے عرصے تک اپنے نفس سے جہاد کرتا رہے (اور جہاد بِالنَّفس میں پختہ ہوجائے) حتّٰی کہ پھر لوگوں سے میل جول کے باوجود اپنے انہی اخلاقیات پر قائم رہے۔ اگر اس جیسے گواہ کی گواہی قبول کی جائے گی تو ایسے کا ملنا نادر ونایاب ہے اور احکام وگواہیاں باطل ہوکر رہ جائیں گے۔ ریشم پہننا، مزامیر سننا، شطرنج کھیلنا، شراب نوشی کے وقت شرابیوں کے پاس بیٹھنا، اجنبی عورتوں کے ساتھ تنہائی اِختیار کرنا اور ان صغیرہ گناہوں جیسے دیگر گناہ اس قبیل سے نہیں ،لہٰذا گواہی کے قبول ورَد کے معاملے میں اسی طرح کا معیار ہونا چاہئے نہ کہ صغیرہ وکبیرہ گناہوں کو معیار قراردیا جائے۔ پھریہ صغیرہ گناہ جن کے سبب گواہی رَد کردی جاتی ہے اگر ان میں سے کسی