گزار ہوئے:میں نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے اور میرے نزدیک پتھر اور سونا برابر ہیں اور اب میری حالت یہ ہے کہ گویا جنت ودوزخ اور عرشِ الٰہی میرے سامنے ہیں۔پیارےمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:عَرَفْتَ فَالْزَمْ عَبْدٌ نَـوَّرَ اللہ قَلْبَهٗ بِالْاِيْمَانِ یعنی تم نے مَعْرِفَت حاصل کرلی ہے اب اس پر ثابت قدم رہو، تم ایسے بندے ہو جس کے دل کواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایمان سے مُنَوَّر فرمادیا ہے۔(1)
اس روایت میں غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا حارثہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایمان کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے پہلے دنیا سے کنارہ کشی کا ذکر کیا اور پھر اس کے ساتھ یقین کو ملایا جس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی یوں تعریف فرمائی:عَبْدٌ نَـوَّرَ اللہ قَلْبَهٗ بِالْاِيْمَانِ یعنی تم ایسے بندے ہو جس کے دل کواللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایمان سے منور فرمادیا ہے۔(2)
شرحِ صدر کی علامت:
(7)…بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:اس فرمانِ باری تعالیٰ:
فَمَنۡ یُّرِدِ اللہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلۡاِسْلَامِ ۚ (پ۸،الانعام:۱۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جسے اللہراہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔ ے لئے جنت ہے۔۔
میں شرحِ صدر سے کیا مراد ہے؟مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: اِنَّ النُّوْرَ اِذَا دَخَلَ فِیِ الْقَلْبِ اِنْشَرَحَ لَهُ الصَّدْرُ وَانْفَسَحَیعنی جب کسی بندے کے دل میں نور داخل ہوتا ہے تو اس کا سینہ کشادہ ہوجاتا ہے اور اسے اطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے۔(3)عرض کی گئی:کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے؟ارشادفرمایا:نَعَمْ اَلتَّجَافِىْ عَنْ دَارِ الْغُرُوْرِ وَالْاِنَابَةُ اِلٰى دَارِ الْخُـلُوْدِ وَالْاِسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُوْلِهٖیعنی ہاں!دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنا،آخرت کی طرف متوجہ ہونا اور موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری میں مشغول ہوجانا۔
اس حدیْثِ پاک میں دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے یعنی زہد کوحقیقَتِ اسلام کی شرط قرار دیا گیا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد الکبیرللبیھقی،ص۳۵۵، حدیث :۹۷۳،بتغیر،عن الحارث بن مالک
2…الزھد الکبیرللبیھقی،ص۳۵۵،حدیث :۹۷۳
3…تفسیر الطبری، پ۸ ،سورةالانعام، تحت الاٰیة:۱۲۵، ۵/ ۳۳۶،حدیث:۱۳۷۵۷ تا ۱۳۸۶۱