فرمایا:اَلتَّقِیُّ النَّقِیُّ الَّذِیْ لَا غِلَّ فِيْهِ وَلَا غِشَّ وَلَا بَغْىَ وَلَا حَسَدَیعنی وہ متقی اور مخلص شخص جس کے دل میں خیانت، دھوکا، بغاوت اور حسد نہ ہو۔پھرعرض کی گئی:ایسے شخص کے بعدکون افضل ہے؟ارشادفرمایا:اَلَّذِیْ يَشْنَاُ الدُّنْيَا وَيُحِبُّ الْاٰخِرَةَ یعنی وہ شخص جو دنیا سے نفرت اور آخرت سے محبت کرنے والا ہو۔(1)
اس حدیْثِ پاک سے یہ بھی معلوم ہواکہ دنیا سے محبت کرنے والا لوگوں میں سب سے بدترین شخص ہے۔
محبَّتِ الٰہی پانے کا نسخَۂ کیمیا:
(4)…اِنْ اَرَدْتَّ اَنْ يُّحِـبَّكَ اللہ فَازْهَدْفِی الدُّنْيَایعنی اگر تم چاہتے ہوکہاللہ عَزَّ وَجَلَّتم سے محبت فرمائے تو دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو۔(2)
اس حدیْثِ پاک میں زہدکومحبَّتِ الٰہی کے حصول کا سبَب قرار دیا گیا ہے اور یقیناًاللہ عَزَّ وَجَلَّجس بندے سے محبت فرمائے وہ اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہے،لہٰذا دنیا سے بے رغبتی افضل ترین مقام ہے۔ یہ بھی ظاہر ہوا کہ دنیا سے محبت کرنے والے کے بارے میں یہ خدشہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کا شکا ر ہوجائے۔
زہد اور تقوٰی کا دلوں پر دورہ:
(5)…اَلزُّهْدُ وَالْوَرْعُ يَجُوْلَانِ فِی الْقُلُوْبِ كُلَّ لَيْلَةٍ فَاِنْ صَادَفَا قَلْبًـا فِيْهِ الْاِيْمَانُ وَالْحَيَآءُ اَقَامَا فِيْهِ وَاِلَّا ارْتَحَلَایعنی زہد اور تقوٰی ہر رات لوگوں کے دلوں کا دورہ کرتے ہیں ،اگر کوئی ایسا د ل پائیں جس میں ایمان اور حیا موجود ہوں تو اس میں قیام کرتے ہیں ورنہ روانہ ہوجاتے ہیں(3)۔
ایمان کی حقیقت:
(6)…حضرت سیِّدُناحارثہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:میں سچا مومن ہوں تورحمَتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِسْتِفْسارفرمایا:وَمَا حَقِيْقَةُ اِيْمَانِكَیعنی تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟عرض
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الزھد فی الدنیا،۴/ ۴۷۵،حدیث:۴۲۱۶،بتغیر
شعب الایمان، للبیھقی ، باب فی حفظ اللسان،۴/ ۲۰۵،حدیث :۴۸۰۰
2… سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الزھد فی الدنیا،۴/ ۴۲۳، حدیث:۴۱۰۲،بتغیر
3… قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون:شرح مقامات الیقین …الخ،۱/ ۴۱۶