Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
657 - 882
فضیلَتِ زہد پر مشتمل27فرامین مصطفٰے:
(1)…جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ اس کا مقصد صرف دنیا کا حصول ہوتواللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے معاملات کو مُنْتَشِر فرمادیتا ہے ، اس کے مال واسباب کو دَرہم بَرہم فرماکر اسے فَقرمیں مبتلا فرمادیتا ہے اور اسے دنیا میں سے اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا اس کے نصیب میں ہےاور جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ اس کا مقصد آخرت  ہوتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کےارادوں کو مضبوط فرمادیتا ہے،اس کے مال واسباب کی حفاظت  فرماتا ہے،اس کے دل میں دنیا سے بے نیازی پیدا فرمادیتا ہے اور دنیااس کے پاس  ذلیل ہوکرآتی ہے۔(1)
زاہد کو حکمت عطا کی جاتی ہے:
(2)…اِذَا رَاَيْتُمُ الْـعَبْدَ وَقَدْ اُعْطِىَ صَمْتًا وَّزُهْدًافِی  الدُّنْيَا فَاقْتَرِبُوْا مِنْهُ فَاِنَّهُ يُلْقَى الْحِكْمَةَیعنی جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جسے خاموشی اور دنیا سے بے رغبتی کی دولت حاصل ہے تو اس کا قُرْب حاصل کرو کیونکہ اسے حکمت عطا کی گئی ہے۔(2)
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: 
وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًاؕ (پ۳،البقرة:۲۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جسے حکمت ملی اُسے بہت بھلائی ملی۔ ے لئے جنت ہے۔۔
	اسی لئے بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْنفرماتے ہیں:مَنْ زَهَدَ فِی  الدُّنْيَا اَرْبَعِيْنَ يَوْمًا اَجْرَى اللہ يَنَابِيْعَ الْحِكْمَةِ فِیْ  قَلْبِهِ وَاَنْطَقَ بِهَا لِسَانَهُیعنی جو شخص40 دن تک دنیا سے بے رغبتی اختیار کرلے تواللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کے دل میں حکمت کے چشمے جاری فرمادیتا ہے اور پھر وہ اسی حکمت کے ساتھ کلام کرتا ہے۔
سب سے بہتر شخص:
(3)…ایک صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:ہم نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!لوگوں میں سب سے بہترشخص کون ہے؟ارشادفرمایا:كُلُّ مُؤْمِنٍ مَّخْمُوْمِ الْقَلْبِ صَدُوْقِ اللِّسَانِیعنی وہ مومن جو د ل کا صاف اور زبان کا سچا ہو۔عرض کی گئی:صاف دل والے سے کیا مراد ہے؟ارشاد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تفسیر کبیر ، پ۲۵،  الشوری،  تحت الاٰیة: ۲۰،۹/ ۵۹۲،بتغیرقلیل
2…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب  الزھد فی الدنیا،۴/ ۴۲۲، حدیث :۴۱۰۱،بتغیرقلیل