ايك قول كے مطابق ا س آیت میں اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاکامعنیٰ یہ ہے کہ کون دنیا میں زیادہ زہد اختیار کرنے والا ہے ، گویا اس آیتِ مبارکہ میں زہد کو اَحْسَنُ الْاَعْمَال یعنی تمام اعمال سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔
(4)… مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیۡ حَرْثِہٖۚ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا ۙوَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿۲۰﴾ (پ۲۵،الشورٰی:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اُس کا کچھ حصّہ نہیں۔ ے لئے جنت ہے۔۔
(5)… وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہۡرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۬ۙ لِنَفْتِنَہُمْ فِیۡہِ ؕ وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّ اَبْقٰی ﴿۱۳۱﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۱۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے۔ ے لئے جنت ہے۔۔
(6)… اَلَّذِیۡنَ یَسْتَحِبُّوۡنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ (پ۱۳،ابراھیم:۳)
ترجمۂ کنز الایمان:جنہیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے۔ ے لئے جنت ہے۔۔
اس آیتِ طیبہ میں کفار کی یہ صِفَت بیان کی گئی ہے کہ وہ دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں،اس سے معلوم ہوا کہ مومن کی یہ شان ہونی چاہئے کہ وہ اس کا اُلَٹ کرے یعنی آخرت کو دنیا پر ترجیح دے۔
دنیا کی مَذمَّت میں کثیر احادیث مروی ہیں،چونکہ دنیا کی محبت بھی ہلاکت میں ڈالنے والے امور میں سے ہے اس لئے ہم نے ان میں سے بعض احادیث مُہلکات کے بیان میں’’کِتَابُ ذَمِّ الدُّنْیَا‘‘کے تحت ذکر کردی ہیں۔ یہاں ہم صرف دنیا سے نفرت کی فضیلت پر مبنی احادِیْثِ مُبارَکہ ذکر کریں گے کیونکہ زہد کا معنیٰ بھی دنیا سے نفرت کرنا ہے اور یہ فعل نجات دینے والے امورمیں سے ہے۔چنانچہ