Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
655 - 882
فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیۡ زِیۡنَتِہٖ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنیَا یٰلَیۡتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوۡتِیَ قَارُوۡنُ ۙ اِنَّہٗ لَذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۷۹﴾ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ وَیۡلَکُمْ ثَوَابُ اللہِ خَیۡرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۚ وَلَا یُلَقّٰىہَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوۡنَ ﴿۸۰﴾  (پ۲۰،القصص:۷۹تا۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اپنی قوم پر نکلا اپنی آرائش میں بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بے شک اس کا بڑا نصیب ہے اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاریاللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لئے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرےاور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں۔ ے لئے جنت ہے۔۔
	اس آيتِ مُقَدَّسَہ میں زُہْد کو عُلَما کی طرف منسوب کی گیا ہے اور زاہدین کا وَصْف یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ عِلْم کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں اور یہ بات زُہْد کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
(2)…  اُولٰٓئِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ بِمَا صَبَرُوۡا (پ۲۰،القصص:۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا۔ ے لئے جنت ہے۔۔
	اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے فرمایا کہ ان لوگوں کو دنیا سے زہد پر صبر(یعنی بے رغبتی اختیار) کرنے کے سبب دُگنا اَجر دیا جائے گا۔
(3)…  اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾ (پ۱۵،الکھف:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک ہم نے زمین کا سنگار کیا جو کچھ اس پر ہے کہ انہیں آزمائیں ان میں کس کے کام بہتر ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کوئی التفات نہ فرمایا۔ یہاں تک کہ وہ بالکل زمین میں دھنس گیا۔ دو منحوس آدمی جو قارون کے ساتھی ہوئے تھے، لوگوں سے کہنے لگے کہ حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے قارون کو اس لئے دھنسا دیا ہے تاکہ قارون کے مکان اور اُس کے خزانوں پر خود قبضہ کرلیں۔ تو آپ نےاللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ قارون کا مکان اور خزانہ بھی زمین میں دھنس جائے۔چنانچہ قارون کا مکان جو سونے کا تھا اور اس کا سارا خزانہ، سبھی زمین میں دھنس گیا۔(صاوی،۴/ ۱۵۴۷،۱۵۴۶،پ۲۰، القصص:۸۱)
	نوٹ:مزید تفصیل کے لئے عجائب القرآن مع غرائب القرآن کے مذکورہ مقام کا مطالعہ کیجئے!