دوسری فصل: زہد کی فضیلت کا بیان
فضیلَتِ زُہْد پر مشتمل چھ فرامین باری تعالیٰ:
(1)…اللہ عَزَّ وَجَلَّقارون(1) کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبة المدینہ کی مطبوعہ 430صفحات پر مشتمل کتاب’’عجائِبُ القُرآ ن مع غرائب القرآن‘‘صفحہ 194تا196پر ہے:قارون حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے چچا’’یَصْہر‘‘ کا بیٹا تھا۔ بہت ہی شکیل اور خوبصورت آدمی تھا۔ اسی لئے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اُس کو’’مُنَوَّر‘‘ کہا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس میں یہ کمال بھی تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں’’توراۃ‘‘ کا بہت بڑا عالِم، اور بہت ہی مِلَنْسار و بااخلاق انسان تھا۔ اور لوگ اُس کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے۔ لیکن بے شمار دولت اُس کے ہاتھ میں آتے ہی اُس کے حالات میں ایک دم تغیُّر پیدا ہو گیا اور سامری کی طرح منافق ہو کر حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کا بہت بڑا دشمن ہو گیا اور اعلیٰ دَرَجے کا مُتکَبِّر اور مغرور ہو گیا۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو اُس نے حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے روبرو یہ عہد کیا کہ وہ اپنے تمام مالوں میں سے ہزارہواں حصہ زکوٰۃ نکالے گا مگر جب اُس نے مالوں کا حساب لگایا تو ایک بہت بڑی رقم زکوٰۃکی نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر ایک دم حرص و بخل کا بھوت سوار ہو گیا اور نہ صرف زکوٰۃ کا منکر ہو گیا بلکہ عام طور پر بنی اسرائیل کو بہکانے لگا کہ حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام اس بہانے تمہارے مالوں کو لے لینا چاہتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام سے لوگوں کو بَرگَشْتَہ کرنے کے لئے اُس خبیث نے یہ گندی اور گھناؤنی چال چلی کہ ایک عورت کو بہت زیادہ مال و دولت دے کر آمادہ کرلیا کہ وہ آپ پر بدکاری کا الزام لگائے۔ چنانچہ عین اُس وقت جب کہ حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام وعظ فرما رہے تھے۔ قارون نے آپ کو ٹوکا کہ فلانی عورت سے آپ نے بدکاری کی ہے۔ حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ اُس عورت کو میرے سامنے لاؤ۔ چنانچہ وہ عورت بلائی گئی تو حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ اے عورت! اُساللہ(عَزَّ وَجَلَّ)کی قسم! جس نے بنی اسرائیل کے لئے دریا کو پھاڑ دیا۔ اور عافیت و سلامتی کے ساتھ دریا کے پار کرا کر فرعون سے نجات دی۔ سچ سچ کہہ دے کہ واقعہ کیا ہے؟ حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے جلال سے عورت سَہْم کر کانپنے لگی اور اس نے مجمَعِ عام میں صاف صاف کہہ دیا کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی! مجھ کو قارون نے کثیر دولت دے کر آپ پر بہتان لگانے کے لئے آمادہ کیا ہے۔ اُس وقت حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام آبدیدہ ہو کر سجدہ شکر میں گرپڑے اور بحالَتِ سجدہ آپ نے یہ دعا مانگی کہ یااللہ! قارون پر اپنا قَہْر و غضب نازل فرما دے۔ پھر آپ نے مجمع سے فرمایا کہ جو قارون کا ساتھی ہو وہ قارون کے ساتھ ٹھہرا رہے اور جو میرا ساتھی ہو وہ قارون سے جدا ہو جائے۔ چنانچہ دو خبیثوں کے سوا تمام بنی اسرائیل قارون سے الگ ہوگئے۔ پھر حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے زمین کو حکم دیا کہ اے زمین!تو اس کو پکڑلےتو قارون ایک دم گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا پھر آپ نے دوبارہ زمین سے یہی فرمایا تو وہ کمر تک زمین میں دھنس گیا۔ یہ دیکھ کر قارون رونے اور بلبلانے لگا اور قرابت و رشتہ داری کا واسطہ دینے لگا مگر آپ نے…۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔