ہے۔جس طرح کسی عوض کے لالچ میں مال کو ترک کرنا زہد نہیں کہلاتا اسی طرح مدح وثناکی لالچ میں، سخاوت اور بہادری کے ساتھ مشہور ہونے کے لئے یا پھر مال کی حفاظت کے معاملے میں درپیش مَشَقَّت اور اُمَرا واَغنیا کے سامنے ذِلَّت سے بچنے کے لئے مال کو ترک کرنے کا بھی زہد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سب تو مال ترک کرنے کا دُنیاوی بدلہ ہیں۔
حقیقی زاہد کون ہے؟
حقیقی زاہد تو وہ ہے جس کی پاس دنیا ذلت کے ساتھ حاضر ہو،اس کے حصول کے لئے مشقت بھی نہ اٹھانی پڑےاور وہ کسی بھی قسم کا نقصان اٹھائے بغیر دنیا کو استعمال کرنے پر قادر ہو مثلاً عزت میں کمی ، بدنامی یا کسی خواہِشِ نفس کے فوت ہونے کااندیشہ نہ ہو لیکن وہ اس خوف سے دنیا کو ترک کردے کہ اسے اختیار کرکے میں اس سے مانوس ہوجاؤں گا اور یوںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ کسی اور سے مانوس ہونے اور محبت کرنے والوں نیز اس کی محبت میں غیر کو شریک کرنے والوں میں شامل ہوجاؤں گا۔آخرت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ملنے والے ثواب کو حاصل کرنے کی نیت سے دنیا کو ترک کرنے والا شخص بھی حقیقی زاہد ہے۔ جو شخص جنتی مشروبات کو پانے کے لئے دنیوی مشروبات سے نفع اٹھانے کو ترک کردے،حورانِ جنت کے اشتیاق میں دنیوی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو،جنتی باغات اوران کے درختوں پر نظر رکھتے ہوئے دنیا کے باغات سے نفع نہ اٹھائے،جنت میں زیب وزینت کے حصول کے لئے دنیا میں آرائش وزیبائش سے منہ موڑلے،جنتی میوہ جات کو پانے کے لئے اور اس خوف سےکہ کہیں روزِ قیامت یہ نہ کہہ دیا جائے: اَذْہَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہَا ۚ (پ۲۶،الاحقاف:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے۔ ے لئے جنت ہے۔۔
دنیا کی لذیذ غذاؤں کو ترک کردے۔اَلْغَرَض جو شخص اس بات پر نظر رکھتے ہوئے کہ آخرت دنیا سے بہتر اور باقی رہنے والی ہے اور اس کے علاوہ دیگر ہر چیز دنیا ہے جس کا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہے،جنتی نعمتوں کو ان تمام چیزوں پر ترجیح دے جو اسے دنیا میں بغیر کسی مَشَقَّت کے بآسانی دستیاب ہیں حقیقت میں ایسا شخص زاہد کہلانے کا حق دار ہے۔