حضور پُرنور،شافع یومُ النُّشُوْرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیاتِ ظاہری میں تمام مسلمانوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ہماللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرتے ہیں،اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ کون سا کام کرنےسے اس کی محبت حاصل ہوتی ہے تو ہم وہ کام ضرور کریں گے۔اس پر یہ آیتِ مُقَدَّسَہ نازل ہوئی: وَلَوْ اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیۡہِمْ اَنِ اقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ اَوِ اخْرُجُوۡا مِنۡ دِیَارِکُمۡ مَّا فَعَلُوۡہُ اِلَّا قَلِیۡلٌ مِّنْہُمْ ؕ (پ۵،النسآء:۶۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے۔ے لئے جنت ہے۔۔
حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں:مکی مَدَنی مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمجھ سےارشاد فرمایا:ان تھوڑے لوگوں میں تم بھی شامل ہو۔(1)
حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:مجھے اس بات کا علم نہیں تھاکہ ہم میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو دنیا سے محبت کرتے ہیں یہاں تک کہ یہ آیتِ مُبارَکہ نازل ہوئی:
مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الدُّنْیَا وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَۚ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۵۲)
ترجمۂ کنز الایمان:تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا۔ے لئے جنت ہے۔۔
زہد کی بنیادی شرط:
اس بات کو ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ سخاوت کے طور پر ،لوگوں کے دلوں کو مائل کرنے کے لئے یا پھر کسی عوض کے لالچ میں مال کو ترک کرنے کا زہد سے کوئی تعلق نہیں،یہ سب اچھی عادات تو ہیں لیکن عبادات نہیں ہیں ۔زہد تو یہ ہے کہ آخرت کی عمدگی كے مقابلے میں دنیاکی حَقارت پر نظر رکھتے ہوئے اسے ترک کردیا۔زہد کے علاوہ دنیا کو ترک کرنے کی دیگر صورتیں ان لوگوں سے بھی صادر ہوسکتی ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے،اس قسم کے ترکِ دنیا کو مُرَوَّت،شُجاعت،سَخاوت اور حسْنِ اخلاق تو کہا جاسکتا ہے لیکن زہد نہیں کہہ سکتےکیونکہ ان کے عوض لوگوں کی طرف سے تعریف وتوصیف اور محبت حاصل ہوتی ہے جو کہ دنیا میں ملنے والا بدلہ ہےاور یہ ایسا عوض ہے جس کی لذت مال کے ملنے سے زیادہ لذیذ اور خوشگوار ہوتی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تفسیرابن ابی حاتم،پ۴،اٰل عمرٰن:۱۵۲، ۳/ ۹۹۶،حدیث:۵۵۶۷،بتغیر