Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
651 - 882
 ہے لیکن تم زاہد ہو،یہ شیطان کا ایک خطرناک وار ہے اور اس سے وہی شخص بچ سکتا ہے جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے فضل وکرم سے محفوظ فرمائے۔بندہ جب تک اس بات کا تجربہ نہ کرلے کہ دنیاپر قدرت کے باوجود وہ اسے ترک کرسکتا ہے اس وقت تک اسےہرگز اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔کئی ایسے لوگ جنہیں گناہ کرنے کی طاقت حاصل نہیں ہوتی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم گناہوں سے نفرت کرنے والے ہیں لیکن جب بغیر کسی رکاوٹ کے گناہ کے اسباب مُیَسَّر ہوں اور اسے کر گزرنے میں مخلوق کا خوف بھی مانع نہ ہو تو ان سے بڑھ کرگناہ کا ارتکاب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔جب ناجائز وحرام افعال کے معاملے میں نفس کے دھوکے کا یہ عالَم ہے تو پھر وہ کام جو شرعا ً مباح ہیں ان کے معاملے میں نفس پر بھروسا کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟
	دنیا پر قدرت حاصل نہ ہونے کے باوجود اپنے زاہد ہونے کو مان لینے کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ انسان کو بارہا اس بات کا تجربہ ہوچکا ہو  کہ دنیا پر قدرت ہونے کے باوجود اس کا نفس زہد کو اختیار کرنے میں اس کا ساتھ دیتا ہے اور کسی قسم کی کوئی ظاہری یا باطنی رکاوٹ کھڑی نہیں کرتا ۔ اس صورت میں نفس پر تھوڑا بہت اعتماد کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن پھر بھی اس کے دھوکے سے ہوشیار رہنا ضروری ہے کیونکہ انسان کا  نفس بہت جلد اپنے عہد کو توڑنے والا اور اپنی اصل کی طرف لوٹ جانے والا ہے۔
	خلاصۂ کلا م یہ ہے کہ نفس کی طرف سے زہد کے دعوے پر صرف اس چیز کے معاملے میں اعتماد کیا جاسکتا ہے جسے انسان نے قدرت کے باوجود ترک کردیا ہو۔
سیِّدُنا امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا زہد:
	حضرت سیِّدُناابن ابی لیلیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیِّدُناعبداللہبن شُبْرُمَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا:کیا آپ اس کپڑا بننے والے کے بیٹے(یعنی حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)کو دیکھتے ہیں کہ ہم جو بھی فتوٰی دیتے ہیں یہ اس میں ہم سے اختلاف کرتے ہیں۔حضرت سیِّدُناعبداللہبن شُبْرُمَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ وہ کپڑا بننے والا کا بیٹا ہے یا نہیں لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ دنیا ( عہدۂ قضا کی صورت میں)ان کی خدمت میں حاضر ہوئی لیکن انہوں نے اسے قبول نہ کیا جبکہ ہمارا مُعامَلہ یہ ہے کہ دنیا ہم سے بھاگتی ہے اور ہم اس کا پیچھا کرتے ہیں۔