خوش ہونا چاہئے کیونکہ اس کا یہ سودااللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے عہد کو پورا فرماتا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو شخص موجودشے کو غائب کے عوض فروخت کرکے شے خریدار کے حوالے کردے اور پھر اس کے عوض کے حصول کی کوشش شروع کردے تو اس صورت میں اگر خریدار سچا،خودمختاراوروعدے کو پورا کرنے والا ،قابل بھروسا آدمی ہے تو بیچنے والے کی کوشش مکمل ہوتے ہی عوض اسے مل جائے گا۔
زہد کی دولت کب حاصل ہوتی ہے؟
بندہ جب تک دنیا کو اپنے پاس روک کر رکھتا ہے تب تک اسے زہد کی دولت حاصل نہیں ہوتی اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھائیوں کو آپ کے ماں شریک بھائی بِنْیامِیْن کے معاملے میں زاہد نہیں فرمایااگرچہ انہوں نے کہاتھا: لَیُوۡسُفُ وَ اَخُوۡہُ اَحَبُّ اِلٰۤی اَبِیۡنَا مِنَّا (پ۱۲،یوسف:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:ضرور یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں۔ے لئے جنت ہے۔۔
اور یہ ارادہ کیا تھا کہ حضرت سیِّدُنا یوسفعَلَیْہِ السَّلَامکی طرح بِنْیامِیْن کو بھی اپنے والد حضرت سیِّدُنا یعقوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دور کردیں تاکہ والدِ محترم کی تمام تر توجہ ہمیں حاصل ہوجائےلیکن پھر ایک بھائی کے منع کرنے پر اپنے اس ارادے کو عملی جامہ نہ پہنایا نیز حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کے معاملے میں بھی صرف ارادےپر نہیں بلکہ فروخت کرکے خریدار کے حوالے کرنے پر زاہد قرار دیا۔
دنیوی مال واسباب کو سنبھال کر رکھنا دنیا میں رغبت کی جبکہ اسے اپنے سے دور کردینا زہد کی نشانی ہے۔ اگر کوئی شخص دنیا کی بعض چیزوں کو ترک کردے اور بعض کو روک رکھے تو وہ صرف ان چیزوں کے معاملے میں زاہد ہے جنہیں اس نے ترک کیامطلقاًزاہد نہیں،یونہی جس شخص کو مال ودولت اور دنیوی اسباب دستیاب ہی نہ ہوں اسے بھی زاہد نہیں کہا جاسکتا کیونکہ جس چیز پر انسان کو قدرت ہی حاصل نہ ہو اسے ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
شیطان کا خطرناک وار:
بعض اوقات شیطان انسان کو اس وسوسے میں مبتلا کرتا ہے کہ اگرچہ تمہارے پاس مال ودولت نہیں