Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
65 - 882
 کبیرہ گناہ سے بچنا ان صغیرہ گناہوں کو نہیں مٹائے گا جو شراب خوری کی طرف لے جاتے ہیں جیسے موسیقی وگانا وغیرہ سننا۔ البتہ! جس شخص میں شراب نوشی اور موسیقی سننے کی خواہش طبعی طور پر ہو وہ اپنے نفس سے جہادکرتے ہوئے خودکو شراب سے تو روک لے مگرموسیقی سننے سے باز نہ آئے تو اس کا خودکو شراب سے روک کرنفس سے جہادکرنا(یعنی مجاہدہ کرنا)دل سے اس اندھیرے کو دورکردے گاجومزامیر(یعنی موسیقی ) سننے کے گناہ سے پیدا ہوجاتا ہے۔
	یہ سارے اُخروی احکام ہیں اور ممکن ہے ان میں سے بعض مَحلِّ شک میں باقی رہیں اور متشابہات میں سے ہوں۔ پس ان کی تفصیل نص (یعنی قرآن وحدیث) ہی سے معلوم ہوتی ہے اور نص میں ان کی گنتی آئی ہے نہ جامع تعریف بلکہ نص مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہے۔ چنانچہ
	حصرت سیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:” اَلصَّلٰوةُ اِلَی الصَّلٰوةِ کَفَّارَةٌ وَ رَمَضَانُ اِلٰی رَمَضَانَ کَفَّارَةٌ اِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ اِشْرَاکٌ بِاللہ وَ تَرْکُ السُّنَّةِ وَنَکْثُ الصَّفْقَة یعنی ایک نماز دوسری نماز تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک (گناہوں کے لئے) کفارہ ہے سوائے تین گناہوں کے (۱)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا (۲)سنت کو چھوڑنا اور (۳)سودا منسوخ کرنا۔“عرض کی گئی: ”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! سنت کو چھوڑنے کا مطلب کیا ہے؟“ ارشاد فرمایا:”مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوجانا، اور سودا منسوخ کرنا یہ ہے کہ کسی شخص سے سودا طے کرنے کے بعد تلوار نکال کر اس سے لڑنے کھڑا ہوجائے۔“(1)
	اَلْغَرَض یہ اور اس جیسے دیگر اَلفاظ نہ تو کبیرہ گناہوں کی تعداد کا اِحاطہ کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی جامع تعریف پر دلالت کرتے ہیں تو لامُحالَہ اس میں اِبہام رہے گا۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	اگر کہا جائے کہ گواہی تو اُسی شخص کی قبول ہوتی ہے جو کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے اور گواہی قبول ہونے کے لئے صغیرہ گناہوں سے اِجتناب شرط نہیں اور یہ دُنیاوی اَحکام ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسندامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرة، ۳/ ۵، حدیث : ۷۱۳۲،بتغیر۔