Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
649 - 882
 وہ تیرے نزدیک ہے۔توسرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے ارشاد فرمایا:لَا تَقُلْ هٰكَذَا وَلٰـكِنْ قُلْ اَرِنِیَ  الدُّنْيَاكَمَا اَرَيْتَهَا الصَّالِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكَ یعنی اس طرح نہ کہوبلکہ یوں کہو:(اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!)مجھے دنیا اس طرح دکھا جیسی تونے اپنے نیک بندوں کو دکھائی  ہے۔
	اس کی وجہ یہ ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے نزدیک دنیا ایسی حقیر ہے جیسی کہ اس کی حقیقت ہے بلکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عظمت وجلالت کی بَنِسْبَت ہر مخلوق حقیر ہےجبکہ بندہ دنیا سے بہتر چیز پر نظر رکھتے ہوئے اسے حقیر سمجھتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے اپنا گھوڑا بیچ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گھوڑا اس کے نزدیک زمین کے کیڑے مکوڑوں کی طرح بے کار ہے کیونکہ کیڑے مکوڑے اس کے کسی کام نہیں آسکتے جبکہ گھوڑا کئی طرح سے کام آسکتا ہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّاپنی ذات کے لحاظ سے تمام مخلوق سے بے نیا ز ہے۔پس اس کی عظمت وجلالت کےاعتبار سے اس کے نزدیک تمام مخلوق برابر ہے اور اس کے غیر کے اعتبار سے اس کے نزدیک مخلوق کے مختلف درجات ہیں اور زاہد کے نزدیک اشیاء  کا مختلف ہونا اپنی ذات کے اعتبار سے ہے نہ کہ اپنے غیر کے اعتبار سے۔
زہد سے صادر ہونے والا عمل:
	زہد کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بند ہ ایک چیز کو ترک کرکے دوسری چیز کو حاصل کرتا ہے کیونکہ زہد ایک طرح کا لین دین اور ادنیٰ چیز کے بدلے اعلیٰ چیز حاصل کرنے کا نام ہے۔جس طرح خرید وفروخت میں بندہ بیچی گئی چیز کو سپرد کرکے اس  کی قیمت حاصل کرتا ہے اسی طرح زہد کے لئے ضروری ہے کہ جس چیز میں زہد کیا گیا ہے یعنی دنیا اسے مکمل طور پر اس کے تمام مُتَعَلِّقات کے ساتھ ترک کردیا جائے،دل سے اس کی محبت کا خاتمہ ہوجائے اور اس کی جگہ نیکیوں کی محبت دل میں بسیرا کرلے،دنیا کو اپنےدل کے ساتھ ساتھ ہاتھوں اور آنکھوں سے بھی دور کردے اور ہاتھوں،آنکھوں سمیت بدن کے جملہ اعضاء کو نیک اعمال میں مشغول کردے ورنہ اس کی حالت اس شخص جیسی ہوگی جس نے بیچی گئی چیز خریدار کے حوالے کردی لیکن اس کی قیمت وصول نہ کی۔جب کوئی شخص لین دین کو مکمل کرکے سودے کو پورا کرلے (یعنی جملہ متعلقات سمیت دنیا کو ترک کرکے اس کے عوض اپنے تمام اعضائے  بدن کو نیک اعمال میں مشغول کرلے)تو پھر اسے اپنے اس سودے پر