نہیں ہوں گے،دنیا وآخرت کے اس فرق پر انسان کا جس قدر پختہ یقین ہوتا ہے اسی قدر وہ دنیا کے عوض آخرت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے حتّٰی کہ اپنی جان ومال کو بھی آخرت کے بدلے بیچ دیتا ہے۔ چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے: اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمْ وَ اَمْوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ (پ۱۱،التوبة:۱۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہنے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنت ہے۔
پھر یہ بھی بیان کردیا گیا کہ ان کا یہ سودا نَفْع بخش ہے،چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
فَاسْتَبْشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعْتُمۡ بِہٖ ؕ (پ۱۱،التوبة:۱۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:تو خوشیاں مناؤ اپنے سودے کی جو تم نے اس سے کیا ہے۔ے لئے جنت ہے۔۔
زہد کی دولت سے محرومی کا سبب:
زہد کو اختیار کرنے کے لئے صرف اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ آخرت دنیا سے بہتر بھی ہے اور باقی بھی رہے گی اور یہ بات ہر خاص وعام کو معلوم ہوتی ہے لیکن اپنے علم یا یقین کی کمزوری ،نفسانی شَہْوات کے غَلَبے ، شیطان کے ہاتھوں میں کھلونا بننے اور شیطانی وسوسوں سے دھوکا کھاکر لمبی امیدوں میں مبتلا ہونے کے سبب کثیر لوگ مرتے دم تک زہد کی نعمت سے محروم رہتے ہیں اور مرنے کے بعد صرف کَفِ افسوس مَلتے رہتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّنےدنیا کی بے وَقعتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشا دفرمایا:
قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیۡلٌ ۚ (پ۵،النسآء:۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرمادو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے۔ے لئے جنت ہے۔۔
جبکہ آخرت کی عمدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ وَیۡلَکُمْ ثَوَابُ اللہِ خَیۡرٌ (پ۲۰،القصص:۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری اللہکا ثواب بہترہے۔ے لئے جنت ہے۔۔
اس آیتِ طیبہ میں ا س بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ جوہر کی عمدگی کاعلم اس کے عوض سے بے رغبت کردیتا ہے کیونکہ زہد کا تصور اس وقت تک ممکن نہیں جب تک محبوب تر چیز محبوب چیز کا عوض نہ بنے ۔یہی وجہ ہےکہ جب ایک شخص نے دعا میں کہا:اَللّٰهُمَّ اَرِنِیَ الدُّنْيَاكَمَا تَرَاهَایعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے دنیا ایسے دکھاجیسی