زہد کا اعلیٰ ترین درجہ:
بہرحال دنیا کو ترک کرکے آخرت کی طرف مائل ہونے یا غیراللہکوچھوڑ کراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ ہونے کا نام زہدہے، دوسری صورت زہد کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔
زہد کےلئے حصولِ دنیا پر قادر ہونا ضروری ہے:
زہد کے لئےجس طرح یہ بات ضروری ہے کہ زاہد جس چیز کی طرف مائل ہوا ہے وہ اس کے نزدیک ترک کردہ شے سے بہتر ہو اسی طرح یہ بھی شرط ہے کہ زاہد ترک کردہ چیز پر قادر ہوکیونکہ جو چیز انسان کی قدرت میں ہی نہ ہو اسے ترک کرنا نا ممکن ہے،جب زاہد اس چیز پر قدرت کے باوجود اسے ترک کرتا ہے تو پھر یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اب اسے اس چیز میں رغبت نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو کسی نے زاہد کہہ کر پکارا تو آپ نے فرمایا:زاہد تو حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز ہیں کہ دنیا ذلیل ہوکر ان کے پاس آئی لیکن انہوں نے اسے ترک کردیا،بھلا میں نے کس چیز میں زہد کیا ہے؟
دنیا اور آخرت کی مثال:
اس حال کے سبب علم سے مراد یہ ہے کہ زاہدیہ بات جانتا ہو کہ وہ جس چیز کو ترک کررہا ہے وہ حاصل ہونے والی شے کی نسبت حقیراور معمولی ہے جیسے تاجر کو اس بات کا علم ہوتا ہےکہ اس کے سامان کے بدلے ملنے والا عِوَض اس سامان سے بہتر ہے،اگر اسے اس بات کا علم نہ ہو تو وہ اپنا سامان بیچنے پر ہرگز تیار نہ ہو۔ یونہی جب کسی بندے کو اس بات کا علم حاصل ہوتا ہے کہ دنیوی لذات فنا ہونے والی ہیں جبکہ اُخروی نعمتیں دنیوی آسائشوں سے بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ غیرفانی بھی ہیں تووہ انہیں دنیوی لذتوں پر ترجیح دیتا ہے۔ دنیااور آخرت کا باہمی معاملہ ایسا ہے جیسے ہیرے جواہرات اور برف کے ٹکڑے،ہیرے جواہرات برف کے ٹکڑوں سے بہتر بھی ہیں اور باقی رہنے والے بھی،برف کے ٹکڑوں کا مالک انہیں ہیرے جواہرات کے عوض فروخت کرنے میں ذرا بھی پس وپیش نہیں کرے گا۔دنیا برف کے ان ٹکڑوں کی طرح ہے جو دھوپ میں رکھے ہوئے ہیں اور مسلسل پِگھل رہے ہیں جبکہ آخرت ایسے ہیرے جواہرات کی مثل ہے جو کبھی فنا